راستؔ گوئی اور راست روی اور راست منشی کا پورا پورا پابند کرے گا تو اس کی خوابیں سچی ہوں گی اللہ جلّ شانہٗ فرماتا ہے 3۔۱ یعنے جو شخص باطل خیالات اور باطل ِ نیّات اور باطل اعمال اور باطل عقائد سے اپنے نفس کو پاک کرلیوے وہ شیطان کے بند سے رہائی پا جائے گا اور آخرت میں عقوبات اخروی سے رستگار ہوگا اور شیطان اس پر غالب نہیں آ سکے گا۔ ایسا ہی ایک دوسری جگہ فرماتا ہے۔3 ۲ یعنے اے شیطان میرے بندے جو ہیں جنہوں نے میری مرضی کی راہوں پر قدم مارا ہے ان پر تیرا تسلط نہیں ہو سکتا۔ سو جب تک انسان تمام کجیوں اور نالائق خیالات اور بے ہودہ طریقوں کو چھوڑ کر صرف آستانہ الٰہی پر گرا ہوا نہ ہو جائے تب تک وہ شیطان کی کسی عادت سے مناسبت رکھتا ہے اور شیطان مناسبت کی وجہ سے اس کی طرف رجوع کرتا ہے اور اس پر دوڑتا ہے۔ اور جب کہ یہ حالت ہے تو میں الٰہی قانون قدرت کے مخالف کون سی تدبیر کر سکتا ہوں کہ کسی سے شیطان اس کے خواب میں دور رہے۔جو شخص ان راہوں پر چلے گا جو رحمانی راہیں ہیں خود شیطان اس سے دور رہے گا۔
اب اگر یہ سوال ہو کہ جبکہ شیطان کے دخل سے بکلّی امن نہیں تو ہم کیونکر اپنی خوابوں پر بھروسہ کرلیں کہ وہ رحمانی ہیں کیا ممکن نہیں کہ ایک خواب کو ہم رحمانی سمجھیں اور دراصل وہ شیطانی ہو اور یا شیطانی خیال کریں اور دراصل وہ رحمانی ہو تو اس وہم کا جواب یہ ہے کہ رحمانی خواب اپنی شوکت اور برکت اور عظمت اور نورانیت سے خود معلوم ہو جاتی ہے۔ جو چیز پاک چشمہ سے نکلی ہے وہ پاکیزگی اور خوشبو اپنے اندر رکھتی ہے اور جو چیز ناپاک اور گندے پانی سے نکلی ہے اس کا گند اور اس کی بدبو فی الفور آجاتی ہے۔ سچی خوابیں جو خدا تعالیٰ کی طرف سے آتی ہیں وہ ایک پاک پیغام کی طرح ہوتی ہیں جن کے ساتھ پریشان خیالات کا کوئی مجموعہ نہیں ہوتا اور اپنے اندر ایک اثر ڈالنے والی قوت رکھتے ہیں اور دل ان کی طرف کھینچے جاتے ہیں اور روح گواہی دیتی ہے کہ یہ منجانب اللہ ہے کیونکہ اس کی عظمت اور شوکت ایک فولادی میخ کی طرح دل کے اندر دھنس جاتی ہے اور بسا اوقات ایسا بھی ہوتا ہے کہ ایک شخص سچی خواب دیکھتا ہے اور خدا تعالیٰ اس کے کسی مجلسی کو بطور گواہ ٹھہرانے کے وہی خواب یا اس کے کوئی ہم شکل دکھلا دیتا ہے تب اس خواب کو دوسرے کی خواب سے قوت مل جاتی ہے۔ سو بہتر ہے کہ آپ کسی اپنے دوست کو رفیق خواب کرلیں جو صلاحیت