باتوؔ ں کو وزن کیا اور میرے حالات کو جانچا اور میرے کلام کو سنا اور اس میں غور کی تب اسی قدر قرائن سے خدا تعالیٰ نے ان کے سینوں کو کھول دیا اور میرے ساتھ ہوگئے۔ میرے ساتھ وہی ہے جو میری مرضی کیلئے اپنی مرضی کو چھوڑتا ہے اور اپنے نفس کے ترک اور اخذ کیلئے مجھے حکم بناتا ہے اور میری راہ پر چلتا ہے اور اطاعت میں فانی ہے اور انانیت کی جلد سے باہر آگیا ہے۔ مجھے آہ کھینچ کر یہ کہنا پڑتا ہے کہ کھلے نشانوں کے طالب وہ تحسین کے لائق خطاب اور عزت کے لائق مرتبے میرے خداوند کی جناب میں نہیں پا سکتے جو ان راستبازوں کو ملیں گے جنہوں نے چھپے ہوئے بھید کو پہچان لیا اور جو اللہ جلّ شانہٗ کی چادر کے تحت میں ایک چھپا ہوا بندہ تھا اس کی خوشبو ان کو آگئی۔ انسان کا اس میں کیا کمال ہے کہ مثلاً ایک شہزادہ کو اپنی فوج اور جاہ و جلال میں دیکھ کر پھر اس کو سلام کرے۔ باکمال وہ آدمی ہے جو گداؤں کے پیرایہ میں اس کو پاوے اور شناخت کرلیوے۔ مگر میرے اختیار میں نہیں کہ یہ زیر کی کسی کو دوں۔ ایک ہی ہے جو دیتا ہے وہ جس کو عزیز رکھتا ہے ایمانی فراست اس کو عطا کرتا ہے انہیں باتوں سے ہدایت پانے والے ہدایت پاتے ہیں اور یہی باتیں ان کیلئے جن کے دلوں میں کجی ہے زیادہ تر کجی کا موجب ہو جاتی ہیں۔ اب میں جانتا ہوں کہ نشانوں کے بارے میں میں بہت کچھ لکھ چکا ہوں اور خدا تعالیٰ جانتا ہے کہ یہ بات صحیح اور راست ہے کہ اب تک تین ہزار کے قریب یا کچھ زیادہ وہ امور میرے لئے خدا تعالیٰ سے صادر ہوئے ہیں جو انسانی طاقتوں سے بالاتر ہیں اور آئندہ ان کا دروازہ بند نہیں۔ ان نشانوں کیلئے ادنیٰ ادنیٰ میعادوں کا ذکر کرنا یہ ادب سے دور ہے خدا تعالیٰ غنی بے نیاز ہے جب مکہ کے کافر آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھتے تھے کہ نشان کب ظاہر ہوں گے تو خدا تعالیٰ نے کبھی یہ جواب نہ دیا کہ فلاں تاریخ نشان ظاہر ہوں گے کیونکہ یہ سوال ہی بے ادبی سےُ پر تھا اور گستاخی سے بھرا ہوا تھا انسان اس نابکار اور بے بنیاد دنیا کیلئے سالہا سال انتظاروں میں وقت خرچ کر دیتا ہے۔ ایک امتحان دینے میں کئی برسوں سے طیاری کرتا ہے وہ عمارتیں شروع کرا دیتا ہے جو برسوں میں ختم ہوں وہ پودے باغ میں لگاتا ہے جن کا پھل کھانے کیلئے ایک دور زمانہ تک انتظار کرنا ضروری ہے پھر خدا تعالیٰ کی راہ میں کیوں جلدی کرتا ہے اس کا باعث بجز اس کے اور کچھ نہیں کہ دین کو ایک کھیل سمجھ رکھا ہے انسان خدا تعالیٰ سے نشان طلب کرتا ہے اور اپنے دل میں مقرر نہیں کرتا کہ نشان دیکھنے کے بعد اس کی راہ میں کونسی جانفشانی کروں گا اور کس قدر دنیا کو چھوڑ دوں گا اور کہاں تک خدا تعالیٰ کے مامور بندہ کے پیچھے ہو چلوں گا بلکہ غافل انسان ایک تماشا کی طرح نشان کو سمجھتا ہے حواریوں نے حضرت مسیح سے نشان مانگا تھا کہ ہمارے لئے