ابؔ غور سے اس معرفت کے دقیقہ کو سنو کہ حضرت مسیح علیہ السلام کو دو مرتبہ یہ موقعہ پیش آیا کہ ان کی روحانیت نے قائم مقام طلب کیا اول جبکہ ان کے فوت ہونے پر چھ سو برس گذر گیا اور یہودیوں نے اس بات پر حد سے زیادہ اصرار کیا کہ وہ نعوذ باللہ مکار اور کاذب تھا اور اس کا ناجائز طور پر تولد تھا اور اسی لئے وہ مصلوب ہوا اور عیسائیوں نے اس بات پر غلو کیا کہ وہ خدا تھا اور خدا کا بیٹا تھا اور دنیا کو نجات دینے کیلئے اس نے صلیب پر جان دی۔ پس جب کہ مسیح علیہ السلام کی بابرکت شان میں نابکار یہودیوں نے نہایت خلاف تہذیب جرح کی اور بموجب توریت کی اس آیت کے جو کتاب استثنا میں ہے کہ جو شخص صلیب پر کھینچا جائے وہ *** ہوتا ہے۔ نعوذ باللہ حضرت مسیح علیہ السلام کو *** قرار دیا اور مفتی۱؂ اور کاذب اور ناپاک پیدائش والا ٹھہرایا اور عیسائیوں نے ان کی مدح میں اطراء کر کے ان کو خدا ہی بنا دیا اور ان پر یہ تہمت لگائی کہ یہ تعلیم انہیں کی ہے تب بہ اعلام الٰہی مسیح کی روحانیت جوش میں آئی اور اس نے ان تمام الزاموں سے اپنی بریت چاہی اور خدا تعالیٰ سے اپنا قائم مقام چاہا تب ہمارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم مبعوث ہوئے جن کی بعثت کی اغراض کثیرہ میں سے ایک یہ بھی غرض تھی کہ ان تمام بیجا الزاموں سے مسیح کا دامن پاک ثابت کریں اور اس کے حق میں صداقت کی گواہی دیں یہی وجہ ہے کہ خود مسیح نے یوحنا کی انجیل کے ۱۶ باب میں کہا ہے کہ میں تمہیں سچ کہتا ہوں کہ تمہارے لئے میرا جانا ہی فائدہ مند ہے کیونکہ اگر میں نہ جاؤں تو تسلی دینے والا (یعنے محمد صلی اللہ علیہ وسلم) تم پاس نہ آئے گا پھر اگر میں جاؤں تو اسے تم پاس بھیج دوں گا اور وہ آکر دنیا کو گناہ سے اور راستی سے اور عدالت سے تقصیر وار ٹھہرائے گا۔ گناہ سے اسلئے کہ وہ مجھ پر ایمان نہیں لائے۔ راستی سے اس لئے کہ میں اپنے باپ پاس جاتا ہوں اور تم مجھے پھر نہ دیکھو گے۔ عدالت سے اس لئے کہ اس جہان کے سردار پر حکم کیا گیا ہے۔ جب وہ روح حق آئے گی تو تمہیں ساری سچائی کی راہ بتا وے گی۔ وہ روح حق میری بزرگی کرے گی اسلئے کہ وہ میری چیزوں سے پائے گی۔ ۱۴۔ وہ تسلی دینے والا جسے باپ میرے نام سے بھیجے گا وہی تمہیں سب چیزیں سکھائے گا۔ لوقا ۱۴۔ مَیں تمہیں سچ کہتا ہوں کہ مجھ کو نہ دیکھو گے اس وقت تک کہ تم کہو گے مبارک ہے وہ جو خداوند کے نام پر (یعنے مسیح علیہ السلام کے نام پر) آتا ہے۔ ان آیات میں مسیح کا یہ فقرہ کہ میں اسے تم پاس بھیج دوں گا اس بات پر صاف دلالت کرتا ہے کہ مسیح کی روحانیت اس کے آنے کیلئے تقاضا کرے گی اور یہ فقرہ کہ باپ اس کو میرے نام سے بھیجے گا اس بات پر دلالت کرتا ہے کہ وہ آنے والا مسیح کی تمام روحانیت پائے گا اور اپنے کمالات کی ایک شاخ کی رو سے وہ نوٹ: اصل متن میں ایسے ہی لکھا ہے ۔ اغلبًا ’’ مفتری‘‘ یا ’’ متفنّی ‘‘ لگتا ہے۔ناشر