ہم ؔ یہ کہیں کہ آفتاب کے وجود پر ایمان لائے اور زمین پر ایمان لائے کہ موجود ہے اور چاند کے موجود ہونے پر بھی ایمان لائے اور اس بات پر ایمان لائے کہ دنیا میں گدھے بھی ہیں اور گھوڑے بھی اور خچر بھی اور بیل بھی اور طرح طرح کے پرند بھی تو کیا اس ایمان سے کسی ثواب کی توقع ہو سکتی ہے۔ پھر کیا وجہ ہے کہ جب ہم مثلاً ملائک کے وجود پر ایمان لاتے ہیں تو خدائے تعالیٰ کے نزدیک مومن ٹھہرتے ہیں اور مستحق ثواب بنتے ہیں اور جب ان تمام حیوانات پرایمان لاتے ہیں جو زمین پر ہماری نظر کے سامنے موجود ہیں تو ایک ذرہ بھی ثواب نہیں ملتا حالانکہ ملائک اور دوسری سب چیزیں برابر خدائے تعالیٰ کی مخلوق ہیں پس اس کی یہی وجہ ہے کہ ملائک پردہ غیب میں ہیں اور دوسری چیزیں یقینی طور پر ہمیں معلوم ہیں اور یہی وجہ ہے کہ قیامت کے دن ایمان لانا منظور نہیں ہوگا۔ یعنے اگر اس وقت کوئی شخص خدا تعالیٰ کی تجلیات دیکھ کر اوراس کے ملائک اور بہشت اور دوزخ کا مشاہدہ کر کے یہ کہے کہ اب میں ایمان لایا تو منظور نہ ہوگا۔ کیوں منظور نہ ہوگا؟ اسی وجہ سے کہ اس وقت کوئی پردہ غیب درمیان نہ ہوگا تا اس سے ماننے والے کا صدق ثابت ہو۔ اب پھر ذرا غور کر کے اس بات کو سمجھ لینا چاہیئے کہ ایمان کس بات کو کہتے ہیں اور ایمان لانے پر کیوں ثواب ملتا ہے۔ امید ہے کہ آپ بفضلہ تعالیٰ تھوڑا سا فکر کر کے اس بات کو جلد سمجھ جائیں گے کہ ایمان لانا اس طرز قبول سے مراد ہے کہ جب بعض گوشے یعنے بعض پہلو کسی حقیقت کے جس پر ایمان لایا جاتا ہے مخفی ہوں اور نظر دقیق سے سوچ کر اور قرائن مرجحہ کو دیکھ کر اس حقیقت کو قبل اس کے کہ وہ بکُلی کھل جائے قبول کرلیا جائے یہ ایمان ہے جس پر ثواب مترتب ہوتا ہے اور اگرچہ رسولوں اور نبیوں اور اولیاء کرام علیہم السلام سے بلاشبہ نشان ظاہر ہوتے ہیں مگر سعید آدمی جو خدائے تعالیٰ کے پیارے ہیں ان نشانوں سے پہلے اپنی فراست صحیحہ کے ساتھ قبول کرلیتے ہیں اور جو لوگ نشانوں کے بعد قبول کرتے ہیں وہ لوگ خدائے تعالیٰ کی نظر میں ذلیل اور بے قدر ہیں بلکہ قرآن کریم بآواز بلند بیان فرماتا ہے کہ جو لوگ نشان دیکھنے کے بغیر حق کو قبول نہیں کر سکتے وہ نشان کے بعد بھی قبول نہیں کرتے۔ کیونکہ نشان کے ظاہر ہونے سے پہلے وہ بالجہر منکر ہوتے ہیں اور علانیہ کہتے پھرتے ہیں کہ یہ شخص کذّاب اور جھوٹا ہے کیونکہ اس نے کوئی نشان نہیں دکھلایا اور ان کی ضلالت کا زیادہ یہ موجب ہوتا ہے کہ خدائے تعالیٰ بھی بباعث آزمائش اپنے بندوں کے نشان دکھلانے میں عمداً