قرآؔ ن کریم میں تعریف کے ساتھ بیان نہیں کئے اور اپنا غضب ظاہر کیا ہے جیسا کہ ایک جگہ فرماتا ہے 333 33 ۱ یعنے یہ لوگ سخت قسمیں کھاتے ہیں کہ اگر کوئی نشان دیکھیں تو ضرور ایمان لے آئیں گے۔ ان کو کہدے کہ نشان تو خدا تعالیٰ کے پاس ہیں اور تمہیں خبر نہیں کہ جب نشان بھی دیکھیں گے تو کبھی ایمان نہیں لائیں گے۔ پھر فرماتاہے۔
333 ۲ یعنے جب بعض نشان ظاہر ہوں گے تو اس دن ایمان لانا بے سود ہوگا اور جو شخص صرف نشان کے دیکھنے کے بعد ایمان لایا ہے اس کو وہ ایمان نفع نہیں دے گا۔ پھر فرماتا ہے 33۔ 333 ۳ الخ یعنے کافر کہتے ہیں کہ وہ نشان کب ظاہر ہوں گے اور یہ وعدہ کب پورا ہوگا سو ان کو کہدے کہ مجھے ان باتوں میں دخل نہیں نہ میں اپنے نفس کیلئے ضرر کا مالک ہوں نہ نفع کا مگر جو خدا چاہے۔ ہر یک گروہ کیلئے ایک وقت مقرر ہے جو ٹل نہیں سکتا اور پھر اپنے رسول کو فرماتا ہے۔ 3333333 ۔ ۴ یعنے اگر تیرے پر (اے رسول صلی اللہ علیہ وسلم)اِن کافروں کا اعراض بہت بھاری ہے سو اگر تجھے طاقت ہے تو زمین میں سرنگ کھود کر یا آسمان پر زینہ لگا کر چلا جا اور ان کیلئے کوئی نشان لے آ۔ اور اگر خدا چاہتا تو ان سب کو جو نشان مانگتے ہیں ہدایت دے دیتا۔ پس تو جاہلوں میں سے مت ہو۔ اب ان تمام آیات سے معلوم ہوتا ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے عہد مبارک میں کافر نشان مانگا کرتے تھے بلکہ قسمیں بھی کھاتے تھے کہ ہم ایمان لائیں گے مگر اللہ جلّ شانہٗ کی نظر میں وہ مورد غضب تھے اور ان کے سوالات بے ہودہ تھے بلکہ اللہ جلّ شانہٗ صاف صاف فرماتا ہے کہ جو شخض نشان دیکھنے کے بعد ایمان لاوے اس کا ایمان مقبول نہیں جیسا کہ ابھی آیت لا ینفع نفسا ایمانھا تحریر ہو چکی ہے اور اسی کے قریب قریب ایک دوسری آیت ہے اور وہ یہ ہے3
3333۵ یعنے