آپؔ کا عجز اظہار نشان آسمانی سے لوگوں پر ظاہر کروں اور مسلمانوں پر آپ کا جھوٹ اور فریب کھولوں کیونکہ میرے خیال میں آپ کو مسمریزم وغیرہ میں دخل نہیں۔ اور آپ کے پاس جو ہتھیار اور دام تزویر ہے وہ صرف زبان کی چالاکی اور فقرہ بندی ہے۔ لیکن مجھے اس صورت میں قادیان پہنچنے میں یہ اندیشہ ہے کہ آپ میری جان کو نقصان پہنچانے میں کوشش کریں گے اور اس سے اپنے الہام کو کہ یہ شخص باون۵۲ برس کا ہوکر فوت ہو جاوے گا۔ جس کو آپ کے حواری اور دوست میاں چٹو ریشم فروش اور میاں رجب الدین شالی کو ب لاہور وغیرہ آپس میں پھیلا رہے ہیں سچا کر دکھائیں گے۔ )گو واقع میں کبھی سچا نہیں ہو سکتا کیونکہ میں باون۵۲ برس کی عمر پوری کر چکا ہوں۔ ۱۷ ؍محرم ۱۲۵۶ ؁ھ میری پیدائش ہے اور اب ۱۳۱۰ ؁ھ گذر رہا ہے( اور کم سے کم یہ کہ میری آبرو ریزی کی تدبیر کریں گے۔ پس اگر آپ میری اس غرض کو پیش نظر رکھ کر مجھے اپنے پاس بلانا چاہتے ہیں تو میرے اس اندیشہ کو ایک باضابطہ تحریر سے جو عدالت میں رجسٹرڈ ہو اُٹھادیں۔ آپ نے اس تحریر ذمہ داری کو منظور کیا تو اس کا مسودہ آپ کے پاس بھیجا جاوے گا۔ اس صورت میں یہ خاکسار قادیان میں حاضر ہوگا اور جو کام آپ کی خدمت گذاری کا یہاں کرتا ہے وہاں بیٹھ کر کرے گا۔ در صورت عدم منظوری شرط مذکور میں قادیان میں نہیں آ سکتا۔ اس صورت میں جو آپ نے اپنے اور اپنے تابعین کے الہامات و منامات کے جو میری نسبت ہوئے ہیں اجازت چاہی ہے اس سے مجھے تعجب آیا اور یقین ہوا کہ آپ دعویٰ الہام میں کذاب ہیں۔ خدا کے الہام کی اشاعت و تبلیغ کیلئے اوروں کی اجازت کے کیا معنی*؟ اوّل تو جو الہام کسی نبی یا ولی کو کسی شخص کے ڈرانے کیلئے ہوتا ہے اس کی اشاعت و تبلیغ اس الہام کا عین مدعا ہوتا ہے اور اگر آپ کا ملہم آپ کو ایسے الہام کرتا ہے جس کی بٹالوی صاحب کے اس بیان سے ان کی قرآن دانی اور حدیث خوانی خوب ظاہر ہو رہی ہے ان کو معلوم رہے کہ ہر یک ملہم من اللہ کو تین قسم کے الہام ہوتے ہیں۔ ایک واجب التبلیغ دوسرے وہ الہام جن کے اظہار اور عدم اظہار میں ملہم لوگ اختیار دیئے جاتے ہیں۔ اگر مصلحت اظہار کی سمجھیں تو اظہار کر دیں ورنہ پوشیدہ رکھیں۔ تیسری قسم الہام کی وہ ہے جن کے اظہار سے ملہم لوگ منع کئے جاتے ہیں۔ یہی تقسیم نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی حدیث میں موجود ہے سو یہ الہام درمیانی قسم کا الہام تھا جس کا اظہار و عدم اظہار اس عاجز کے اختیار میں دیا گیا تھا اور انبیاء بھی ہر یک بات خداتعالیٰ سے حل نہیں کرتے بلکہ اِس عالم اسبابمیں اپنے اجتہاد سے بھی کام لیتے ہیں۔ فتدبر۔ منہ