نشانؔ آسمانی دکھانے کیلئے انعام کے وعدہ پر بلاتے ہیں۔ ہم موافقین کو بلا وعدہ انعام بھی نہیں بلاتے تو آپ ہنس کر چپ ہوگئے پھر جب آپ نے مسیح موعود ہونے کا دعویٰ کیا تو میں نے اپنا خلاف ظاہر کر کے آپ کے پاس آنا اور دوستانہ پرائیویٹ گفتگو کرنا چاہا تو آپ بلانے کا وعدہ دیتے دیتے لودیانہ میں جا براجے اور وہاں جاکر مخاصمانہ بحث کا اکھاڑہ جما کر ناجائز اور بحث کو ٹلانے کے شروط سے پناہ گزین ہوئے۔ پھر جب بمقام لودیانہ آپ کے گھر پر پہنچ کر آپ کو گفتگو پر مجبور کیا تو آپ نے اس با امن گفتگو کو ناتمام چھوڑ کر پھر مخاصمانہ اکھاڑہ جمانے کا اہتمام کیا۔ اور دہلی، پٹیالہ، لاہور، سیالکوٹ وغیرہ میں مخاصمانہ بحث کا علم بلند کیا۔ اور پھر بحث سے گریز کر کے انواع اتہام و اکاذیب کا اشتہار کیا اور اسی اثناء میں فیصلہ آسمانی لکھ مارا جس میں کوئی دقیقہ بے رحمی و بدگوئی کا فروگذاشت نہ کیا۔ اس بے رحمی و نفسانی کارروائیوں کا نتیجہ یہ نکلا کہ مسلمانوں کی جماعت میں تفرقہ پڑگیا۔ بھائی بھائی سے اور دوست دوست سے الگ ہوگیا۔ کیا رحمت و ہمدردی کا یہی اثر ہے۔ آپ میں رحمت اور ہمدردی کا شمہ اثر بھی ہوتا تو جس وقت میں نے اپنا خلاف آپ کے دعویٰ مسیحائی سے ظاہر کیا تھا آپ فوراً مجھے اپنی جگہ بلاتے یا غریب خانہ پر قدم رنجہ فرماتے(جیسا کہ پہلے بھی آپ سے وقوع میں آتا رہا۔ اور کم سے کم تین دفعہ آپ نے غریب خانہ میں قدم رنجہ فرما کر رابطہ اتحاد ظاہر کیا تھا) اور اس صورت سے آپ اپنے دعویٰ جدیدہ کو ثابت کر دکھاتے اب جو آپ نے یہ خط ارسال فرمایا ہے۔ یہ بھی آپ کی خود غرضی اور نیت فساد سے خالی نہیں۔ اس میں خود غرضی یہ ہے کہ آپ کے مرید آپ کو نیک نیت اور اپنے دعویٰ میں ثابت قدم اور مقابلہ مخالفین کیلئے مستعد سمجھیں نیت فساد کی یہ ہے