یہؔ کچھ نئی بات نہیں آپ کے ہم خصلت ابوجہل اور ابولھب بھی خدا تعالیٰ کے نبی صادق کو کذاب جانتے تھے۔ انسان جب فرط تعصب سے اندھا ہو جاتا ہے تو صادق کی ہر ایک بات اس کو کذب ہی معلوم ہوتی ہے۔ لیکن خدائے تعالیٰ صادق کا انجام بخیر کرتا ہے اور کاذب کے نقش ہستی کو مٹا دیتا ہے۔33۔۱؂ قولہ (آپ نے) بحث سے گریز کر کے انواع اتہام اور اکاذیب کا اشتہار دیا۔ اقول یہ سب آپ کے دروغ بے فروغ ہیں جو بباعث تقاضائے فطرت بے اختیار آپ کے منہ سے نکل رہے ہیں ورنہ جو لوگ میری اور آپ کی تحریروں کو غور سے دیکھتے ہیں وہ خود فیصلہ کر سکتے ہیں کہ آیا اتہام اور کذب اور گریز اس عاجز کا خاصہ ہے یا خود آپ ہی کا۔ چالاکی کی باتیں اگر آپ نہ کریں تو اور کون کرے۔ ایک تو قانون گو شیخ ہوئے دوسرے چار حرف پڑھنے کا دماغ میں کیڑا۔ مگر خوب یاد رکھو وہ دن آتا ہے کہ خود خداوند تعالیٰ ظاہر کر دے گا کہ ہم دونوں میں سے کون کاذب اور مفتری اور خدا تعالیٰ کی نظر میں ذلیل اور رسوا ہے اور کس کی خداوند کریم آسمانی تائیدات سے عزت ظاہر کرتا ہے ذرا صبر کرو اور انجام کو دیکھو۔ قولہ آپ میں رحمت اور ہمدردی کا شمہ اثر بھی ہوتا تو جس وقت میں نے آپ کے دعویٰ مسیحائی سے اپنا خلاف ظاہر کیا تھا آپ فوراً مجھے اپنی جگہ بلاتے یا غریب خانہ پر قدم رنجہ فرماتے۔ اقول اے حضرت آپ کو آنے سے کس نے منع کیا تھا یا میری ڈیوڑھی پر دربان تھے جنہوں نے اندر آنے سے روک دیا۔ کیا پہلے اس سے آپ پوچھ پوچھ کر آیا کرتے