اختیاؔ ر کیا تھا وہ طواف اس سال نہ ہو سکا اور اجتہادی غلطی ثابت ہوئی۔ افسوس کہ فرط تعصب سے فذہب وہلی کی حدیث بھی آپ کو بھول گئی مجھے تو آپ کے انجام کا فکر لگا ہوا ہے۔ دیکھیں کہ کہاں تک نوبت پہنچتی ہے۔
اور لڑکے کی پیشگوئی تو حق ہے۔ ضرور پوری ہوگی اور آپ جیسے منکروں کو خدا تعالیٰ رسوا کرے گا۔ اے دشمن حق جبکہ تمام پیشگوئیوں کے مجموعی الفاظ یہ ہیں کہ بعض لڑکے فوت بھی ہوں گے اور ایک لڑکا خدا تعالیٰ سے ہدایت میں کمال پائے گا۔ تو پھر آپ کا اعتراض اس بات پر کھلی کھلی دلیل ہے کہ اب آپ کا باطن مسخ شدہ ہے۔ یہ تو یہودیوں کے علماء کا آپ نے نقشہ اتار دیا۔ اب آگے دیکھیں کیا ہوتا ہے۔
قولہ اس سے ہریک شخص سمجھ سکتا ہے کہ جو شخص بندوں پر جھوٹ بولنے میں دلیر ہو وہ خدا پر جھوٹ بولنے سے کیونکر رک سکتا ہے۔
اقولان باتوں سے ثابت ہوتا ہے کہ آپ کی فطرت ان الزامات سے خالی نہیں جن کو آپ کے والد صاحب جن کے بعض خطوط آپ کی فطرت اور آپ کے اوصاف حمیدہ کے متعلق میرے پاس بھی غالباً کسی بستہ میں پڑے ہوئے ہوں گے بزبان خود مشہور کر گئے ہیں۔ *اے نیک بخت اول ثابت تو کیا ہوتا کہ فلاں فلاں شخص کے روبرو اس عاجز نے کبھی جھوٹ بولا تھا۔ اپنے التزام صدق کی جو میں نے نظیریں پیش کی ہیں ان کے مقابل پر بھلا کوئی نظیر تو پیش کرو۔ تا آپ کا منہ اس لائق ٹھہرے کہ آپ اس شخص کی نکتہ چینی کر سکو جو سخت امتحان کے وقت صادق نکلا اور صدق کو ہاتھ سے نہ چھوڑا۔ میں حیران ہوں کہ کونسا جنّ آپ کے سر پر سوار ہے جو آپ کی پردہ دری کرا رہا ہے۔
آخر میں یہ بھی آپ کو یاد رہے کہ یہ آپ کا سراسر افترا ہے کہ الہام کلب یموت علٰی کلب کو
آپ کو اس عاجز کے وہ احسانات بھول گئے جبکہ مَیں آپ کے والدصاحب کو آپ کی پردہ دری سے روکتا رہا۔ آپ خوب جانتے ہیں کہ میں نے اُس سچے الزام کو کبھی پسند نہیں کیا جو آپ کے والد صاحب آپ کی نسبت اخباروں میں شائع کرانا چاہتے تھے اور مَیں آپ کی پردہ پوشی اورصفوتِ فطرت کا ہمیشہ حامی رہا اور اُنہیں روکتا رہا لیکن میرے احسان کا آپ نے یہ بدلہ دیا کہ مَیں نے تو سچے الزاموں سے آپ کو بچایا مگر آپ نے بحسب تقاضائے فطرت مبارکہ دروغگوئی کا الزام میرے پر لگا دیا۔ اب مجھے یقین ہوا کہ آپ کے والد صاحب بے شک سچے تھے۔ منہ