صدؔ یقہ کی طرف عائد ہوتا ہے اس سے ذرا پرہیز نہیں کرتے اور باوجود اس تمام بے ادبی کے دعویٰ محبت مسیح رکھتے ہیں۔ جاننا چاہیئے کہ بَیْبل کے رو سے تعدد نکاح نہ صرف قولاً ثابت ہے بلکہ بنی اسرائیل کے اکثر نبیوں نے جن میں حضرت مسیح کے دادا صاحب بھی شامل ہیں عملاً اس فعل کے جواز بلکہ استحباب پر مہر لگادی ہے۔ اے ناخدا ترس عیسائیو؟ اگر ملہم کیلئے ایک ہی جورو ہونا ضروری ہے تو پھر کیا تم داؤد جیسے راست باز نبی کو نبی اللہ نہیں مانو گے یا سلیمان جیسے مقبول الٰہی کو ملہم ہونے سے خارج کردو گے۔ کیا بقول تمہارے یہ دائمی فعل ان انبیاء کا جنکے دلوں پر گویا ہر دم الہام الٰہی کی تار لگی ہوئی تھی اور ہر آن خوشنودی یا ناخوشنودی کی تفصیل کے بارے میں احکام وارد ہورہے تھے ایک دائمی گناہ نہیں ہے جس سے وہ اخیر عمر تک باز نہ آئے اور خدا اور اسکے حکموں کی کچھ پروانہ کی۔ وہ غیرت مند اور نہایت درجہ کا غیّور خدا جس نے نافرمانی کی وجہ سے ثمود اور عاد کو ہلاک کیا۔ لوط کی قوم پر پتھر برسائے۔ فرعون کو معہ تمام شریر جماعت کے ہولناک طوفان میں غرق کردیا۔ کیا اس کی شان اور غیرت کے لائق ہے کہ اس نے ابراہیم اور یعقوب اور موسیٰ اورداؤد ؑ اور سلیمان ؑ اور دوسرے کئی انبیاء کو بہت سی بیویوں کے کرنے کی وجہ سے تمام عمر نافرمان پاکر اور پکے سرکش دیکھ کر پھر ان پر عذاب نازل نہ کیا بلکہ انہیں سے زیادہ تر دوستی اور محبت کی۔ کیا آپکے خدا کو الہام اتارنے کیلئے کوئی اور آدمی نہیں ملتا تھا۔ یا بہت سے جورواں کرنے والے ہی اس کو پسند آگئے؟*یہ بھی یاد رکھنا چاہیئے کہ نبیوں اور تمام برگزیدوں نے بہت سی جورواں کرکے اور پھر روحانی طاقتوں اور قبولیّتوں میں سب سے سبقت لے جا کر تمام دنیا پر یہ ثابت کردیا ہے کہ دوست الٰہی بننے کیلئے یہ راہ نہیں کہ
* انجیل کے بعض اشارات سے پایا جاتا ہے کہ حضرت مسیح بھی جورو کرنے کی فکر میں تھے مگر تھوڑی سی
عمر میں اٹھائے گئے ورنہ یقین تھا کہ اپنے باپ داؤد کے نقشِ قدم پر چلتے۔ منہ