نہیںؔ تو خدائے تعالیٰ سے ڈرو اور حدیثوں کے وہ معنے کرو جو ہوسکتے ہیں واقعات موجودہ کو نظر انداز مت کرو تاتم پر کھل جائے کہ یہ تمام ضلالت وہی سخت دجّالیت ہے جس سے ہریک نبی ڈراتا آیا ہے جس کی بنیاد اس دنیا میں عیسائی مذہب اور عیسائی قوم نے ڈالی جس کے لئے ضرور تھا کہ مجدّد وقت مسیح کے نام پر آوے کیونکہ بنیاد فساد مسیح کی ہی امت ہے اور میرے پر کشفاًیہ ظاہر کیا گیا ہے کہ یہ زہرناک ہوا جو عیسائی قوم سے دنیا میں پھیل گئی حضرت عیسیٰ کو اس کی خبر دی گئی تب ان کی روح روحانی نزول کے لئے حرکت میں آئی اور اس نے جوش میں آکر اور اپنی امت کو ہلاک۱؂ کا مفسدہ پر داز پا کر زمین پر اپنا قائم مقام اور شبیہہ چاہا جو اس کا ایسا ہم طبع ہو کہ گویا وہی ہو سو اس کو خدائے تعالیٰ نے وعدہ کے موافق ایک شبیہ عطا کی اور اس میں مسیح کی ہمت اور سیرت پر جو مجاہدات سے خدا تعالیٰ کو ڈھونڈھتے ہیں ظاہر ہوجاتا ہے۔ غرض جو بات مومنوں کی معمولی سمجھ سے برتر ہے اس کے دریافت کرنے کی یہ راہ نہیں ہے کہ وہ فرقہ ضالہ فلاسفروں کے دست نگر ہوں اور گم گشتہ سے راہ پوچھیں بلکہ ان کے لئے صدق اور صبر سے عرفان کا مرتبہ عطا کیا جاتا ہے جس مرتبہ پر پہنچ کر تمام عقدے ان کے حل ہوجاتے ہیں۔ اِس زمانہ میں جو مذہب اور علم کی نہایت سرگرمی سے لڑائی ہورہی ہے اس کو دیکھ کر اور علم کے مذہب پر حملے مشاہدہ کر کے بے دل نہیں ہونا چاہیئے کہ اب کیا کریں یقیناً سمجھو کہ اس لڑائی میں اسلام کو مغلوب اور عاجز دشمن کی طرح صلح جوئی کی حاجت نہیں بلکہ اب زمانہ اسلام کی روحانی تلوار کا ہے جیسا کہ وہ پہلے کسی وقت اپنی ظاہری طاقت دکھلا چکا ہے۔ یہ پیشگوئی یاد رکھو کہ عنقریب اس لڑائی میں بھی دشمن ذلّت کے ساتھ پسپا ہوگا اور اسلام فتح پائے گا۔ حال کے علوم جدیدہ کیسے ہی زور آور حملے کریں۔ کیسے ہی نئے نئے ہتھیاروں کے ساتھ چڑھ چڑھ کر آویں مگر انجام کار ان کے لئے ہزیمت ہے۔ میں شکر نعمت کے مطابق ایڈیشن اول ۔یہ سہو کتابت ہے درست لفظ ہلاکت ہے۔ناشر