کیاؔ ابھی تک تم پر یہ ثابت نہیں ہوا کہ گذشتہ صدی میں جو تیرھویں صدی تھی کیا کیا صدمات اسلام پر پہنچ گئے اور ضلالت کے پھیلنے سے کیا کیا ناقابل برداشت زخم ہمیں اٹھانے پڑے۔ کیا ابھی تک تم نے معلوم نہیں کیا کہ کن کن آفات نے اسلام کو گھیرا ہوا ہے۔ کیا اس وقت تم کو یہ خبر نہیں ملی کہ کس قدر لوگ اسلام سے نکل گئے کس قدر عیسائیوں میں جا ملے کس قدر دہریہ اور طبعیہ ہوگئے اور کس قدر شرک اور بدعت نے توحید اور سنت کی جگہ لے لی اور کس قدر اسلام کے ردّ کے لئے کتابیں لکھی گئیں اور دنیا میں شائع کی گئیں سو تم اب سوچ کر کہو کہ کیا اب ضرور نہ تھا کہ خدا تعالیٰ کی طرف سے اس صدی پر کوئی ایسا شخص بھیجا جاتا جو بیرونی حملوں کا مقابلہ کرتا اگر ضرور تھا تو تم دانستہ الٰہی نعمت کو ردّ مت کرو اور اس شخص سے منحرف مت ہوجاؤ نبی کی متابعت نہیں بلکہ ہریک صداقت جب کامل طور پر کھل جائے خود واجب التسلیم ٹھہرتی ہے خواہ اس کو ایک نبی بیان کرے خواہ غیر نبی بلکہ اگر ایک فاسق بھی بیان کرے تب بھی ماننا ہی پڑتا ہے جس خبر کو نبی کے اعتبار پر اور اس کی صداقت کو مسلّم رکھ کر ہم قبول کریں گے وہ چیز ضرور ایسی ہونی چاہیئے کہ گو عند العقل صدق کا بہت زیادہ احتمال رکھتی ہو مگر کذب کی طرف بھی کسی قدر نادانوں کا وہم جاسکتا ہو تاہم صدق کی شق کو اختیار کر کے اور نبی کو صادق قرار دے کر اپنی نیک ظنی اور اپنی فراست دقیقہ اور اپنے ادب اور اپنے ایمان کا اجر پالیویں یہی لب لباب قرآن کریم کی تعلیم کا ہے جو ہم نے بیان کردیا ہے لیکن حکماء اور فلاسفر اس پہلو پر چلے ہی نہیں اور وہ ہمیشہ ایمان سے لاپروا ر ہے اور ایسے علم کو ڈھونڈتے رہے جس کا فی الفور قطعی اور یقینی ہونا ان پر کھل جائے مگر یاد رہے کہ خدا تعالیٰ نے ایمان بالغیب کا حکم فرما کر مومنوں کو یقینی معرفت سے محروم رکھنا نہیں چاہا بلکہ یقینی معرفت کے حاصل کرنے کے لئے ایمان ایک زینہ ہے