ظہوؔ ر پکڑتی ہے حقیقت ایک ہی ہے لیکن بباعث شدّت اور ضعف رنگ کے مختلف نام رکھے جاتے ہیں اسی لئے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے ملفوظات مبارکہ اشارت فرمارہے ہیں کہ محدّث نبی بالقوّہ ہوتا ہے اور اگر باب نبوت مسدود نہ ہوتا تو ہریک محدّث اپنے وجود میں قوت اور استعداد نبی ہوجانے کی رکھتا تھا اور اسی قوت اور استعداد کے لحاظ سے محدث کا حمل نبی پر جائز ہے یعنی کہہ سکتے ہیں کہ المحدّث نبی جیسا کہ کہہ سکتے ہیں کہ العنب خَمْر نظرًا علی القوۃ والاستعداد و مثل ھذا الحمل شائع متعارف فی عبارات القوم و قد جرت المحاورات علی ذالک کما لا یخفی علٰی کل ذکیّ عالم مطلع علی کتب الادب والکلام والتصوّف اور اسی حمل کی طرف اشارہ ہے جو اللہ جلّ شانہٗ نے اس قراء ت کو جو نہیں ہے بلکہ ان کور باطن فلسفیوں کی رائیں ہیں جو حضرت باری تعالیٰ عزّاسمہٗ کو مدبر بالا رادہ نہیں سمجھتے بلکہ آفتاب اور ماہتاب کی طرح بعض امور کے صدور کے لئے علّت موجبہ خیال کرتے ہیں جب آپ خدائے تعالیٰ کو مدبر بالارادہ اور اپنی مرضی کے ساتھ منزل وحی یقین کریں گے اور وحی کو ایسی چیز سمجھیں گے جو اسی سے نکلتی ہے اور اسی کے اتارنے سے الٰہی قوت کے ساتھ دلوں پر اترتی ہے تو اس صورت میں آپ اس کو ملکہ فطرت نہیں کہہ سکتے اور نہ اس کا نام فطرتی قوت رکھ سکتے ہیں بلکہ ایک نور اللہ قرار دیں گے جو خدائے تعالیٰ کے ہاتھ سے اور اس کے ارادہ سے اسی وقت اترتا ہے جب وہ چاہتا ہے ہاں وہ نور جو اترتا ہے وہ فطرت قابلہ پر ہی اپنی روشنی ڈالتا ہے اور اپنا آنا اس کو جتلا دیتا ہے۔ اور یہ کہنا کہ ہم اس طرح پر وحی کو مان نہیں سکتے کیونکہ وہ عقل انسانی کے مافوق ہے سو اس کا یہی جواب ہے کہ عقل انسانی اگر ایک ثابت شدہ صداقت کو اپنے فہم اور ادراک سے