الفاؔ ظ میں محسوس ہوتی ہے اور اپنے اندر ایک ربانی تجلی اور الٰہی صولت رکھتی ہے۔ اِس جگہ ہریک سچے طالب کے دل میں بالطبع یہ سوال پیدا ہوگا کہ مجھے کیا کرنا چاہئے کہ تا یہ مرتبہ عالیہ مکالمہ الٰہیہ حاصل کرسکوں پس اس سوال کا جواب یہ ہے کہ یہ ایک نئی ہستی ہے جس میں نئی قوتیں نئی طاقتیں نئی زندگی عطا کی جاتی ہے اور نئی ہستی پہلی ہستی کی فنا کے بغیر حاصل نہیں ہوسکتی۔ اور جب پہلی ہستی ایک سچی اور حقیقی قربانی کے ذریعہ سے جو فدائے نفس اور فدائے عزت و مال و دیگر لوازم نفسانیہ سے مراد ہے بکلّی جاتی رہے تو یہ دوسری ہستی فی الفور اس کی جگہ لے لیتی ہے۔ اور اگر یہ سوال کیا جائے کہ پہلی ہستی کے دور ہونے کے نشان کیا ہیں تو کی آواز کو جو سچائی کی طرف بلارہا ہے نہ سننا اور تحقیر کی نظر سے اس کو دیکھنا اور بے تحقیق اس کی نسبت مخالفانہ بولنا اور ثابت شدہ صداقت کے برخلاف جمے رہنا ہلاک ہونے کی راہ ہے مجھے آپ کے کلمات سے بو آتی ہے کہ صرف اتنا ہی نہیں کہ آپ اس امت کو مرتبہ مکالمات الہٰیہ سے تہی دست خیال کرتے ہیں بلکہ آپ کسی نبی کے لئے بھی یہ مرتبہ تجویز نہیں کرتے کہ خدا تعالیٰ کا زندہ اور خدا کی قدرتوں سے بھرا ہو کلام اس پر کبھی نازل ہوا ہو پس اگر آپ کا عقیدہ یہی ہے جو میں نے سمجھا اور میرے خیال میں گذرا ہے تو نعوذ باللہ آپ کا ایمان نہایت خطرناک ورطہ میں پڑا ہوا ہے اور میں بہت خوش ہوں گا اگر آپ کسی اخبار کے ذریعہ سے مجھ کو اطلاع دے دیں کہ ہمارا انبیاء کی نسبت یہ عقیدہ نہیں ہے کہ ان پر خدائے تعالیٰ کا زندہ کلام نازل نہیں ہوتا اور وہ کلام اخبار غیبیہ پر مشتمل نہیں ہوتا اور اگر خدانخواستہ آپ کا الٰہی کتابوں کی نسبت جیسا کہ اب تک میں نے سمجھا ہے۔ یہی خیال ہے کہ وہ واقعی اور حقیقی طور پر خدائے تعالیٰ