واؔ ضح ہو کہ جب کوئی اپنے مولیٰ کا سچا طالب کامل طور پر اسلام پر قائم ہوجائے اور نہ کسی تکلف اور بناوٹ سے بلکہ طبعی طور پر خدا تعالیٰ کی راہوں میں ہر ایک جس میں وہ پھنس گئے اور وہ یہ کہ قبل اس کے کہ وہ قرآن کریم کی تعلیمات میں تدبر کرتے اور اس کے تسلّی بخش دلائل سے اطلاع پاتے کسی منحوس وقت میں ان کتابوں کی طرف متوجہ ہوگئے جو اس زمانہ کے یورپ کے فلاسفروں نے جو دہریہ کے قریب قریب ہیں تالیف کی ہیں اور نہ صرف یہی بلکہ معلوم ہوتا ہے کہ ایسے ملحد طبع نو تعلیم یافتہ لوگوں کی باتیں بھی سنتے رہے جن کی طبیعتوں میں یورپ کے طبعی اور فلسفہ پھنس گیا تھا سو جیسا کہ یکطرفہ خیالات کے سننے کا نتیجہ ہوا کرتا ہے وہی نتیجہ سید صاحب کو بھی بھگتنا پڑا۔ قرآن کریم کے حقائق معارف سے تو بے خبر ہی تھے اس لئے فلاسفروں کی تقریروں کے ساحرانہ اثر نے سید صاحب کے دل پر وہ کام کیا کہ اگر خدا تعالیٰ کا فضل اور طینت کی پاکیزگی جو اسی کے فضل سے تھی ان کو نہ تھامتی تو معلوم نہیں کہ ان کی یہ سرگردانی اب تک کہاں تک ان کو پہنچاتی سید صاحب کی یہ نیک منشی درحقیقت قابل تعریف ہے کہ انہوں نے بہرحال قرآن شریف کا دامن نہیں چھوڑا گو سہواً اس کے منشاء اور اس کی تعلیم اور اس کی ہدایتوں سے ایسے دور جا پڑے کہ جو تاویلیں قرآن کریم کی نہ خدائے تعالیٰ کے علم میں تھیں نہ اس کے رسول کے علم میں نہ صحابہ کے علم میں نہ اولیا اور قطبوں اور غوثوں اور ابدال کے علم میں اور نہ ان پر دلالت النص نہ اشارۃ النص وہ سید صاحب کو سوجھیں زیادہ تر افسوس کا یہ مقام ہے کہ سید صاحب نے قرآن شریف کی ان تعلیموں پر جو اصل اصول اسلام اور وحی الٰہی کا ُ لب لباب تھیں یا یوں کہو کہ جن کا نام اسلام تھا خیر خواہی کی نیت سے پانی پھیر دیا اور اپنی تفسیر میں آیات بینات قرآن کریم کی ایسی بعید از صدق و انصاف تاویلیں کیں کہ جن کو ہم کسی طرح سے تاویل نہیں کہہ سکتے بلکہ ایک پیرایہ میں قرآن کریم کی پاک تعلیمات کا رد ہے۔ سید صاحب کے ہریک فقرہ سے ایسا معلوم ہوتا ہے کہ گویا اس نئے فلسفہ سے جو یورپ نے پیش کیا ہے ان کا دل