نےؔ ایک تازہ زندگی پالی تھی اور اپنے ایمانوں میں ستاروں کی طرح چمک اٹھے تھے سو درحقیقت ایک ہی کامل انسان دنیا میں آیا جس نے ایسے اتم اور اکمل طور پر یہ روحانی قیامت دکھلائی اور ایک زمانہ دراز کے مردوں اور ہزاروں برسوں کے عظیم رمیم کو زندہ کر دکھلایا اس کے آنے سے قبریں کھل گئیں اور بوسیدہ ہڈیوں میں جان پڑ گئی اور اس نے ثابت کر دکھلایا کہ وہی حاشر اور وہی روحانی قیامت ہے جس کے قدموں پر ایک عالم قبروں میں سے نکل آیا اور بشارت 33 ۱ تمام جزیرہ عرب پر اثر انداز ہوگئی اور پھر اس قیامت کا نمونہ صحابہ تک ہی محدود نہ رہا بلکہ اس خداو ندقادر قدیر نے جس نے ہر قوم اور ہر زمانہ اور ہر ملک کے لئے اس بشیر و نذیر کو مبعوث کیا تھا ہمیشہ کے لئے جاودانی برکتیں
بالغیب ہے مگر قرآنِ کریم کو دیکھو کہ اُس صانع کا وجود ثابت کرنے لئے کس قدر استدلالات اور براہین شافیہ سے بھرا ہوا ہے۔ ایسا ہی اگرچہ یہ تو نہیں کہ
اس کی شکل کو چمکیلی اور اس کی تمام ہیکل کو آبدار کردیتی ہے تب اس کے چہرہ پر کاملیّت کا نور برستا ہے اور اس کے بدن پر کمال تام کی آب و تاب نظر آتی ہے اور یہ درجہ پیدائش کا جسمانی پیدائش کے اس درجہ سے مشابہ ہوتا ہے کہ جب جنین کے خاکہ کی ہڈیوں پر گوشت چڑھایا جاتا ہے اور خوبصورتی اور تناسب اعضا ظاہر کیا جاتا ہے۔ پھر بعد اس کے روحانی پیدائش کا چھٹا درجہ ہے جو مصداق
33۲ کا ہے۔ وہ مرتبہ بقا ہے جو فنا کے بعد ملتا ہے جس میں روح القدس کامل طور پر عطا کیا جاتا ہے اور ایک روحانی زندگی کی روح انسان کے اندر پھونک دی جاتی ہے۔ ایسا ہی یہ چھ مراتب خدا تعالیٰ کی پاک کلام میں بھی
۱ النصر:۳ ۲ المومنون: