ظالمؔ اور جاہل انبیاء اور رسول تھے جنہوں نے سب سے پہلے اس امانت کو اٹھا لیا حالانکہ اللہ جلّ شانہٗ آپ فرماتا ہے کہ ہم نے انسان کو احسن تقویم میں پیدا کیا ہے پھر وہ سب سے بدتر کیونکر ہوا اور انبیاء کو سید العادلین قرار دیا ہے پھر وہ ظلوم و جہول دوسرے معنوں کی رو سے کیونکر کہلاویں۔ ماسوا اس کے ایسا خیال کرنے میں خدا تعالیٰ پر بھی اعتراض لازم آتا ہے کہ اس کی امانت جو وہ دینی چاہتا تھا وہ کوئی خیر اور صلاحیت اور برکت کی چیز نہیں تھی بلکہ شر اور فساد کی چیز تھی کہ شریر اور ظالم نے اس کو قبول کیا اور نیکوں نے اس کو قبول نہ کیا مگر کیا خدا تعالیٰ کی نسبت یہ بدظنی کرنا جائز ہے کہ جو چیز اس کے چشمہ سے نکلے اور جس کا نام وہ اپنی امانت رکھے جو پھر اس کی طرف ردّ ہونے کے لائق ہے وہ درحقیقت نعوذ باللہ خراب اور پلید چیز ہو جس کو بجز ایسے ظلوم کے جو درحقیقت سرکش اور نافرمان اور نعمت عدل سے بکلّی بے نصیب ہے کوئی دوسرا قبول نہ کرسکے۔ افسوس کہ ایسے مکروہ خیالوں والے کچھ بھی خدا تعالیٰ
اور اگر کوئی متوجہ ہوتا یا اب بھی ہو تو وہ زندہ خدا جس کی قدرتیں ہمیشہ عقلمندوں کو حیران کرتی رہی ہیں وہ قادر قیّوم جو قدیم سے اس جہان کے حکیموں کو شرمندہ اور ذلیل کرتا رہا ہے بلاشبہ آسمانی چمک سے اس پر حجت قائم کرے گا دنیا میں بڑی خرابی جو افعال شنیعہ کا موجب ہو رہی ہے اور آخرت کی طرف سر اٹھانے نہیں دیتی دراصل یہی ہے کہ اکثر لوگوں کو جیسا کہ چاہئے خدا تعالیٰ پر ایمان نہیں۔ بعض تو اس زمانہ میں کھلی کھلی ہستی باری تعالیٰ
کو ہفت اقلیم کے نام سے موسوم کر دیں لیکن ناظرین اس دھوکہ میں نہ پڑیں کہ جو کچھ ہفت اقلیم کی تقسیم ان یونانی علوم کی رو سے ہو چکی ہے جس کو اسلام کے ابتدائی زمانہ میں حکماء اسلام نے یونانی کتب سے لیا تھا وہ بکلّی صحیح اور کامل ہے کیونکہ اس جگہ تقسیم سے مراد ہماری ایک صحیح تقسیم مراد ہے جس سے کوئی معمورہ باہر نہ رہے اور زمین کی ہر ایک جزو کسی حصہ میں داخل ہوجائے ہمیں اس سے کچھ غرض نہیں کہ اب تک یہ صحیح اور کامل تقسیم معرض ظہور میں بھی آئی یا نہیں بلکہ صرف یہ غرض ہے کہ جو خیال اکثر انسانوں کا اس طرف رجوع کر گیا ہے کہ زمین کو سات حصہ