مخاؔ طب وہی لوگ ہوں کہ جو عذاب دوزخ میں گرفتار ہوں۔ پھر بعض ان میں سے کچھ حصہ تقویٰ کا رکھتے ہیں اس عذاب سے نجات پاویں اور دوسرے دوزخ میں ہی گرے رہیں اور یہ معنے اس حالت میں ہوں گے کہ جب اس خطاب سے ابرار اور اخیار اور تمام مقدس اور مقرب لوگ باہر رکھے جائیں لیکن حق بات یہ ہے کہ اللہ جلّ شانہٗ کی کلام کا منشاء وہی معنی معلوم ہوتے ہیں جو ابھی ہم لکھ چکے ہیں واللّٰہ اعلم بالصواب و الیہ المرجع والمآب۔ اب پھر ہم بحث ظلومیت کی طرف رجوع کر کے لکھتے ہیں کہ ظلومیت کی صفت جو مومن میں ہے یہی اس کو خدا تعالیٰ کا پیارا بنا دیتی ہے اور اسی کی برکت سے مومن بڑے بڑے مراحل سلوک کے طے کرتا اور ناقابل برداشت تلخیاں اور طرح طرح کی دوزخوں کی جلن اور حرقت اپنے لئے بخوشی خاطر قبول کر لیتا ہے یہی وجہ ہے کہ خدا تعالیٰ نے جس جگہ انسان کی اعلیٰ درجہ کی مدح بیان کی ہے اور اس کو سفلی کے حوادث اور تغیرات سے کبھی خیر اور کبھی شر انسانوں کے لئے پیش آجاتی ہے سو اس کے قائل کرنے کے لئے الگ طریق ہے جو بہت صاف اور جلد اس کا منہ بند کرنے والا ہے اور وہ یہ ہے کہ خدا تعالیٰ کے زبردست کام اور پیشگوئیاں جو ربانی طاقت اپنے اندر رکھتی ہیں جو ملہموں اور واصلان الہٰی کو دی جاتی ہیں اللہ جلّ شانہٗ کے وجود اور اس کی صفات کاملہ جمیلہ جلیلہ پر دلالت قویہ قطعیہ یقینیہ رکھتی ہیں لیکن افسوس کہ دنیا میں کے پیرائیوں میں اپنے کام دکھلانے پر قدرت تامہ رکھتا ہے اور تا تمہارے علوم وسیع ہو جائیں اور علوم و فنون میں تم ترقی کرو اور ہیئت اور طبعی اور طبابت اور جغرافیہ وغیرہ علوم تم میں پیدا ہو کر خدا تعالیٰ کی عظمتوں کی طرف تم کو متوجہ کریں اور تم سمجھ لو کہ کیسے خدا تعالیٰ کا علم اور اس کی حکمت کاملہ ہریک شے پر محیط ہو رہی ہے اور کیسی ترکیب ابلغ اور ترتیب محکم کے ساتھ آسمان اور جو کچھ اس میں ہے اپنا رشتہ زمین سے رکھتا ہے اور کیسے خدا تعالیٰ نے زمین کو قوت قابلہ عطا کر رکھی ہے اور آسمانوں اور ان کے اجرام کو قوت مؤثرہ مرحمت فرمائی ہے