میںؔ روحانی طور پر ایمان اور ایمان کے نتائج اور کفر اور کفر کے نتائج ظاہر ہوتے ہیں وہ عالم آخرت میں جسمانی طور پر ظاہر ہوجائیں گے اللہ جلّ شانہٗ فرماتا ہے3 33۔ ۱؂ یعنی جو اس جہان میں اندھا ہے وہ اس جہان میں بھی اندھا ہی ہوگا۔ ہمیں اس تمثلی وجود سے کچھ تعجب نہیں کرنا چاہیئے اور ذرا سوچنا چاہیئے کہ کیونکر روحانی امور عالم رؤیا میں متمثل ہو کر نظر آ جاتے ہیں اور عالم کشف تو اس سے بھی عجیب تر ہے کہ باوجود عدم غیبت حِس اور بیداری کے روحانی امور طرح طرح کے جسمانی اشکال میں انہیں آنکھوں سے دکھائی دیتے ہیں جیسا کہ بسا اوقات عین بیداری میں ان روحوں سے ملاقات ہوتی ہے جو اس دنیا سے گذر چکی ہیں اور وہ اسی دنیوی زندگی کے طور پر اپنے اصلی جسم میں اسی دنیا کے کپڑوں میں سے ایک پوشاک پہنے ہوئے نظر آتے ہیں اور باتیں کرتے ہیں اور بسا اوقات ان میں سے مقدس لوگ باذنہٖ تعالیٰ تمام مدار اس نظام کا بے جان اور بے شعور چیزوں پر ہوتا سو ہمیں اس دلیل کی روشنی ملائک کے وجود اور ان کی ضرورت کے ماننے کیلئے ایسی بصیرت بخشتی ہے کہ گویا ہم بچشم خود ملائک کے وجود کو دیکھ رہے ہیں۔ اور اگر کوئی اس جگہ یہ شبہ پیش کرے کہ کیوں یہ بات روا نہیں کہ ملائک درمیان نہ ہوں اور ہریک چیز خدا تعالیٰ کے حکم اور اذن اور تدبیر محکم سے وہی خدمت بجا لاوے جو اللہ جلّ شانہٗ کا منشا ہے کے محدّد کی طرح اپنے عرش کو قرار نہیں دیا اور نہ اس کو محدود قرار دیا۔ ہاں اس کو اعلیٰ سے اعلیٰ ایک طبقہ قرار دیا ہے جس سے باعتبار اس کی کیفیت اور کمیت کے اور کوئی اعلیٰ طبقہ نہیں ہے اور یہ امر ایک مخلوق اور موجود کیلئے ممتنع اور محال نہیں ہوسکتا۔ بلکہ نہایت قرین قیاس ہے کہ جو طبقہ عرش اللہ کہلاتا ہے وہ اپنی وسعتوں میں خدائے غیر محدود کے مناسب حال اور غیر محدود ہو۔ اور اگر یہ اعتراض پیش ہو کہ قرآن کریم میں یہ بھی لکھا ہے کہ کسی وقت آسمان پھٹ جائیں گے اور ان میں شگاف ہو جائیں گے اگر وہ لطیف مادہ ہے تو اس کے پھٹنے کے کیا معنے ہیں اس بات کا جواب کہ کیوں یہ بات جائز نہیں ہے کہ جو کام عالم جسمانی میں ملایک نے کرنا ہے وہ کام خود بخود ہر یک چیز اپنی فطرتی قوتوں سے کر لیوے ۱؂ بنی اسرآئیل: