اورؔ چاہے تو تنعم اور غفلت میں عمر گزارے اور آخرت میں اپنے تنعم کا حساب دیوے اور آیت333۔۱ کے ایک دوسرے معنے بھی ہیں اور وہ یہ ہے کہ عالم آخرت میں ہریک سعید اور شقی کو متمثل کر کے دکھلا دیا جائے گا کہ وہ دنیا میں سلامتی کی راہوں میں چلایا اس نے ہلاکت اور موت اور جہنم کی راہیں اختیار کیں سو اس دن وہ سلامتی کی راہ جو صراط مستقیم اور نہایت باریک راہ ہے جس پر چلنے والے بہت تھوڑے ہیں اور جس سے تجاوز کرنا اور اِدھر اُدھر ہونا درحقیقت جہنم میں گرنا ہے تمثل کے طور پر نظر آ جائے گی اور جو لوگ دنیا میں صراط مستقیم پر چل نہیں سکے وہ اس روز اس صراط پر بھی چل نہیں سکیں گے کیونکہ وہ صراط درحقیقت دنیا کی روحانی صراط کا ہی ایک نمونہ ہے اور جیسا کہ ابھی روحانی آنکھوں سے ہم دیکھ سکتے ہیں کہ ہماری صراط کے دائیں بائیں درحقیقت جہنم ہے اگر
حکمتوں اور اس کے دقیق بھیدوں سے بے خبر ہیں۔
یہ تو ہم نے منقولی طور پر ثبوت دیا لیکن معقولی طور پر اس بات کا ثبوت کہ نظام ظاہری میں جو کچھ امر خیر ہورہا ہے ان تمام امور کا ظہور و صدور دراصل ملائکہ کے افعال خفیہ سے ہے ان امور پر غور کرنے سے پیدا ہوتا ہے کہ ہریک چیز سے اللہ جلّ شانہٗ وہ کام لیتا ہے جس کام کے کرنے کی اس چیز کو قوتیں عطا کی گئی ہیں۔ پس اب یہ خیال کرنا کہ ہریک تغیر اجرام سماوی اور کائنات الجو کا صرف اسباب طبیعیہ خارجیہ سے ظہور میں آتا ہے اور کسی روحانی سبب کی ضرورت نہیں بالکل غیر معقول ہے کیونکہ اگر ایسا ہی ہوتا کہ یہ
کے ہاتھ میں ہے جو مجرّد پول کے قائل ہیں یا قائل ہوں۔ اگر کوئی شخص ایسا ہی اعتقاد اور رائے رکھتا ہے کہ چند مادی کرّ وں کے بعد تمام پول ہی پڑا ہے جو بے انتہا ہے تو وہ ہماری اس حجت استقرائی سے صاف اور صریح طور پر ملزم ٹھہر جاتا ہے ظاہر ہے کہ استقراء وہ استدلال اور حجت کی قسم ہے جو اکثر دنیا کے ثبوتوں کو اسی سے مدد ملی ہے مثلاً ہمارا یہ قول کہ انسان کی دو۲ آنکھیں ہوتی ہیں اور ایک زبان اور دو کان اور وہ عورتوں کی پیشاب گاہ کی راہ سے پیدا ہوتا ہے
س بات کا عقلی ثبوت کہ اس عالم کے تمام امور کا ظہور ملایکہ کے ذریعہ سے ہے نہ خود بخود
۱ مریم : ۷۲