اورؔ جو آیت3 میں ناجیوں میں شمار کئے گئے ہیں۔
)۲( دوسرے مشرک اور کافر اور سرکش ظالم جو جہنم میں گرائے جائیں گے اور اس آیت میں بیان فرمایا کہ متقی بھی اس نار کی مس سے خالی نہیں ہیں۔ اس بیان سے مراد یہ ہے کہ متقی اسی دنیا میں جو دار الابتلا ہے انواع اقسام کے پیرایہ میں بڑی مردانگی سے اس نار میں اپنے تئیں ڈالتے ہیں اور خدا تعالیٰ کیلئے اپنی جانوں کو ایک بھڑکتی ہوئی آگ میں گراتے ہیں اور طرح طرح کے آسمانی قضاء و قدر بھی نار کی شکل میں ان پر وارد ہوتے ہیں وہ ستائے جاتے اور دکھ دیئے جاتے ہیں اور اس قدر بڑے بڑے زلزلے ان پر آتے ہیں کہ ان کے ماسوا کوئی ان زلازل کی برداشت نہیں کر سکتا اور حدیث صحیح میں
کیلئے جان کی طرح ہیں اور قیام اور بقا ان تمام چیزوں کا فرشتوں کے تعلق پر موقوف ہے۔ اور ان کے اَرْجَاء کی طرف کھسک جانے سے تمام اجرام ستاروں اور شمس و قمر اور آسمان کو موت کی صورت پیش آتی ہے تو پھر اس صورت میں وہ جان کی طرح ہوئے یا کچھ اور ہوئے۔ میں ان مولویوں کی حالت پر سخت افسوس کرتا ہوں کہ جو ان تمام کھلے کھلے مقامات قرآنی کو دیکھ کر پھر بھی اس بات کے قبول کرنے سے متامل ہیں کہ ملائکہ کو اجرام سماوی بلکہ بعض فرشتوں کو جو عنصر ّ یون ہیں عناصر اور اجرام سماوی سے ایسا شدید تعلق ہے کہ جیسا کہ ارواح کو قوالب کے ساتھ ہوتا ہے یہ تو سچ ہے
پس یہ استقرا ہمیں اس بات کے سمجھنے کیلئے بہت مدد دے سکتا ہے کہ اگرچہ یونانیوں کی طرح آسمان کی حد بست ناجائز ہے مگر یہ بھی تو درست نہیں ہے کہ آسمانوں سے مراد صرف ایک خالی فضا اور پول ہے جس میں کوئی مخلوق مادہ نہیں ہم جہاں تک ہمارے تجارب رویت رسائی رکھتے ہیں کوئی مجرد پول مشاہدہ نہیں کرتے پھر کیونکر خلاف اپنی مستمر استقرا کے حکم کر سکتے ہیں کہ ان مملو فضاؤں سے آگے چل کر ایسے فضا بھی ہیں جو بالکل خالی ہیں۔ کیا برخلاف ثابت شدہ استقراء کے اس