کہؔ بغیر اس کے وہ جی ہی نہیں سکتے اور ان کا نفس کمال ذوق اور شوق اور لذت اور شدّتِ میلان اور خوشی سے بھرے ہوئے انشراح کے ساتھ خدا تعالیٰ کی اطاعت بجا لاتا ہے اور اس بات کی طرف وہ کسی وقت اور کسی محل اور حکم الٰہی یا مشیت الٰہی کی نسبت محتاج نہیں ہوتے کہ اپنے نفس سے باکراہ اور جبر کام لیں بلکہ اُن کا نفس نفسِ مطمئنہ ہو جاتا ہے اور جو خدا تعالیٰ کا ارادہ وہ ان کا ارادہ اور جو اس کی مرضی وہ ان کی مرضی ہوجاتی ہے اور خدا تعالیٰ کے حکموں
فعل کو بحکم مولیٰ کریم بجالاتے ہیں۔ پس عقل سلیم کا اسی قدر ماننا اس کی ترقی کیلئے ایک زینہ کی طرح ہے اور بلاشبہ اس قدر تسلیم کے بعد عقل سلیم تساقط شہب کو دہریوں اور طبیعیوں کی عقول ناقصہ کی طرح ایک امر عبث خیال نہیں کرے گی بلکہ تعین کامل کے ساتھ اس رائے کی طرف جھکے گی کہ درحقیقت یہ حکیمانہ کام ہے جس کے تحت میں مقاصد عالیہ ہیں اور اس قدر علم کے ساتھ عقل سلیم کو اس بات کی حرص پیدا ہوگی کہ ان مقاصد عالیہ کو مفصل طور پر معلوم کرے پس یہ حرص اور شوق صادق اس کو کشاں کشاں اس مرشد کامل کی طرف لے آئے گا جو وحی قرآن کریم ہے۔
ہاں اگر عقل سلیم کچھ بحث اور چوں چرا کر سکتی ہے تو اس موقعہ پر تو نہیں لیکن ان مسائل کے ماننے کیلئے بلاشبہ اول اس کا یہ حق ہے کہ خدا تعالیٰ کے وجود میں جس کی سلطنت تبھی قائم رہ سکتی ہے کہ جب ہریک ذرّہ عالم کا اس کا تابع ہو بحث کرے۔ پھر ملائک کے وجود پر اور ان کی خدمات پر دلائل شافیہ طلب کرے یعنی اس بات کی پوری پوری تسلی کر لیوے کہ درحقیقت خدا تعالیٰ کا انتظام یہی ہے کہ جو کچھ اجرام اور اجسام اور کائنات الجو میں ہورہا ہے یا کبھی کبھی ظہور میں آتا ہے۔ وہ صرف اجرام اور اجسام کے افعال شتر بے مہار کی طرح نہیں ہیں بلکہ ان کے تمام واقعات کی زمام اختیار حکیم قدیر نے ملائک کے ہاتھ میں دے رکھی ہے جو ہر دم