تابع ہوجاتا ہے اور ذوق اور محبت اور ارادت سے ان کاموں کو بجا لاتا ہے غرض وہ لوگ کچھ تو تکلف اور مجاہدہ سے خدا تعالیٰ کے حکموں پر چلتے ہیں اور کچھ طبعی جوش اور دلی شوق سے بغیر کسی تکلف کے اپنے رب جلیل کی فرمانبرداری ان سے صادر ہوتی ہے یعنی ابھی پوری موافقت اللہ جلّ شانہٗ کے ارادوں اور خواہشوں سے ان کو حاصل نہیں اور نہ نفس کی جنگ اور مخالفت سے بکلّی فراغت بلکہ بعض سلوک کی راہوں میں نفس موافق اور بعض راہوں میں مخالف ہے (۳) تیسری سابق بالخیرات اور اعلیٰ درجہ
تو ضرور دریافت کر لے گی کہ ان کاکوئی فعل عبث اور بے ہودہ طور پر نہیں۔
اس اقرار کے بعد اگرچہ عقل مفصلاً تساقط شہب کی ان اغراض کو دریافت نہ کرسکے جو ملائک کے ارادہ اور ضمیرمیں ہیں لیکن اس قدر اجمالی طور پر تو ضرور سمجھ جائے گی کہ بے شک اس فعل کیلئے بھی مثل اور افعال ملائکہ کے درپردہ اغراض و مقاصد ہیں پس وہ بوجہ اس کے کہ ادراک تفصیلی سے عاجز ہے اس تفصیل کیلئے کسی اور ذریعہ کے محتاج ہوگی جو حدود عقل سے بڑھ کر ہے اور وہ ذریعہ وحی اور الہام ہے جو اسی غرض سے انسان کو دیا گیا ہے تا انسان کو ان معارف اور حقائق تک پہنچا دے کہ جن تک مجرد عقل پہنچا نہیں سکتی اور وہ اسرار دقیقہ اس پر کھولے جو عقل کے ذریعہ سے کھل نہیں سکتے۔ اور وحی سے مراد ہماری وحی قرآن ہے جس نے ہم پر یہ عقدہ کھول دیا کہ اسقاط شہب سے ملائکہ کی غرض رجم شیاطین ہے۔ یعنی یہ ایک قسم کا انتشار نورانیت ملائک کے ہاتھ سے اور ان کے نور کی آمیزش سے ہے جس کا جنات کی ظلمت پر اثر پڑتا ہے اور جنات کے افعال مخصوصہ اس سے روبکمی ہوجاتے ہیں اور اگر اس انتشار نورانیت کی کثرت ہو تو بوجہ نور کے مقناطیسی جذب کے مظاہر کاملہ نورانیت کے انسانوں میں سے پیدا ہوتے ہیں ورنہ یہ انتشار نورانیت بوجہ اپنی ملکی خاصیت