دادؔ خواہ ہیں جن کی وجہ سے سخت اہانت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے مخالفوں میں ہو رہی ہے ان لوگوں کے حق میں کیا کہیں اور کیا لکھیں جنہوں نے کفار کو ہنسی اور ٹھٹھہ کا موقع دیا اور ہمارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے مرتبہ کو حضرت عیسیٰ کی نسبت ایسا اور اس قدر گھٹا دیا کہ جس کے تصور سے بدن پر لرزہ پڑتا ہے۔
اب پھر ہم مبحث حقیقتِ اسلام کی طرف رجوع کر کے لکھتے ہیں کہ دراصل یہ حقیقت اسلامیہ جس کی تعلیم قرآن کریم فرماتا ہے کوئی نئی چیز نہیں ہے بلکہ تمام انبیاء علیہم السلام اسی حقیقت کے ظاہر کرنے کے لئے بھیجے گئے تھے اور تمام الٰہی کتابوں کا یہی مدعا رہا ہے کہ تا بنی آدم کو اس صراط مستقیم پر قائم کریں لیکن قرآن کریم کی تعلیم کو جو دوسری تعلیموں پر کمال درجہ کی فوقیت ہے تو اس کی دو وجہ ہیں۔
ایک مسترشد بڑی آسانی سے سمجھ سکتا ہے کہ شہب ثاقبہ کے تساقط کا ظاہری نظام جن علل اور اسباب پر مبنی ہے وہ علل اور اسباب روحانی نظام کے کچھ مزاحم اورسدِر اہ نہیں اور روحانی نظام یہ ہے کہ ہریک شہاب جو ٹوٹتا ہے دراصل اس پر ایک فرشتہ موکل ہوتا ہے جو اس کو جس طرف چاہتا ہے حرکت دیتا ہے چنانچہ شہب کی طرز حرکات ہی اس پر شاہد ہے اور یہ بات صاف ظاہر ہے کہ فرشتہ کا کام عبث نہیں ہوسکتا اس کی تحت میں ضرور کوئی نہ کوئی غرض ہوگی جو مصالح دین اور دنیا کیلئے مفید ہو لیکن ملائک کے کاموں کے اغراض کو سمجھنا بجز توسط ملائک ممکن نہیں سو بتوسط ملائک یعنی جبرائیل علیہ السلام آخر الرسل صلی اللہ علیہ وسلم پر یہی ظاہر ہوا کہ ملائک کے اس فعل رمی شہب سے علت غائی رجمِ شیاطین ہے۔
اور یہ بھید کہ شہب کے ٹوٹنے سے کیونکر شیاطین بھاگ جاتے ہیں اس کا سر روحانی سلسلہ پر نظر کرنے سے یہ معلوم ہوتا ہے کہ شیاطین اور ملائک کی عداوت ذاتی ہے۔
مبحث حقیقت اسلام کا بقیہ حصہ