شکؔ سے بلفظ ’’مومن اور مسلم‘‘ روایت نہ کیا جاتا۔ اس مسئلہ کی تحقیق کتب اصول فقہ و اصول حدیث میں ہے۔ اور ہماری تالیفات اشاعۃ السنہ وغیرہ میں آپ ان کو ملاحظہ فرماویں۔ آپ شروط صحت کی تحقیق و ثبوت کو شکی فرماتے ہیں و بناءً علیہ صرف اصول روایت کو مثبت صحت قرار نہیں دیتے یہ امر بھی فن حدیث سے آپ کی ناواقفی کا مثبت ہے۔ مہربانِ من شروط کی تحقیق و ثبوت میں محدثین نے ایسی تحقیق کی ہے کہ اس سے علم طمانیت حاصل ہوجاتا ہے۔ محدثین نے ہر ایک راوی کے تحقیق حال میں کہ وہ کب پیدا ہوا کہاں کہاں سے سفر کر کے اس نے حدیث حاصل کی کس کس سے حدیث سنی کس کس نے اس سے حدیث سنی کون سی حدیث میں وہ منفرد رہا کس حدیث میں اس سے وہم ہوگیا ہے اور کس شخص نے اس کی حدیث کو بلحاظ تحقق شروط صحیح کہا۔ کس نے ضعیف قرار دیا ہے وغیرہ وغیرہ دفتروں کے دفتر لکھ دیئے ہیں وبناءً علیہ ہر ایک حدیث کی نسبت جس کو ائمہ محدثین خصوصاً امامین ہمامین بخاری و مسلم نے صحیح قرار دیا ہے اور عام اہل اسلام نے اس کو صحیح تسلیم کر لیا ہے ظن غالب صحت حاصل ہوجاتا ہے بلکہ ابن صلاح وغیرہ ائمہ حدیث کے نزدیک شیخین کی اتفاقی حدیث جس پر کسی نے کچھ کلام نہیں کیا مفید یقین ہے۔ آپ یقین کو مانیں خواہ نہ مانیں ظن غالب سے تو انکار نہیں کرسکتے کیونکہ اپنی تحریرات میں اس کا اقرار کرچکے ہیں۔ اس پر جو آپ نے باستدلال آیت ۱؂ اعتراض کیا ہے وہ بھی آپ کے اصول دین سے ناواقفی پر مبنی ہے۔ مہربانِ من ظن غالب عملیات میں لائق اعتبار ہے اور قرآنِ مجید کی آیت مذکورہ اور دیگر آیات میں جہاں ظن کے اتباع سے ممانعت وارد ہے اس سے اعتقاد کے متعلق ظن مراد ہے۔ کیا آپ کو یہ مسائل معلوم نہیں یا کسی عالم سے نہیں سنے کہ اگر نماز میں بھول ہوجاوے کہ رکعت ایک پڑھی ہے یا دو تو نمازی تحرّ ی کرے اور جو ظن غالب ہو اس پر عمل کرے یا اگر وضو کے ٹوٹ جانے میں شک واقع ہو تو ظن غالب پر عمل کرے۔ اسی وجہ سے جملہ علماء اسلام کا حنفی ہیں یا شافعی‘ اہلحدیث ہیں خواہ اہل فقہ اتفاق ہے کہ خبر واحد صحیح ہو تو واجب العمل ہے حالانکہ خبر واحد ہر ایک کے نزدیک موجب ظن ہے نہ مثبت یقین۔ اسی وجہ سے خاص کر صحیحین کی نسبت علماء اسلام نے جن میں مقلدو مجتہد فقیہ و محدث سب داخل ہیں اتفاق کیا ہے کہ صحیحین کی احادیث واجب العمل ہیں اور امام ابن صلاح نے فرمایا کہ ان کی اتفاقی حدیثیں موجب یقین ہیں لہٰذا ان کے مضمون پر اعتقاد بھی واجب ہے اور اکابر ائمہ نے لکھا ہے کہ اگر کوئی قسم کھالے کہ جو احادیث صحیحین میں ہیں وہ صحیح نہ ہوں تو اس کی عورت پر طلاق ہے تو اس کی عورت پر طلاق واقع نہیں ہوتی اور وہ اس قسم میں جھوٹا نہیں ہوتا امام نووی نے شرح مسلم میں فرمایا ہے اتفق العلماء رحمھم اللّٰہ تعالی علی ان اصح الکتب بعد القرآن العزیز الصحیحان البخاری و مسلم و تلقتھم الامت بالقبول و کتاب البخاری اصحھما صحیحا و اکثرھما فوائد و معارف