کرےؔ ۔ آپ نے میرے اصول کی نسبت تسلیم یاعدم تسلیم تو قطعی طور پر ظاہر نہیں کی مگر ان اصول کا خلاف ثابت کرنے پر مستعد ہوگئے سو بھی ایسے طور پر کہ اصل سوال سے غیر متعلق اور فضول باتوں میں خامہ فرسائی شروع کردی اس صورت میں مجھ پر لازم نہ تھا کہ میں آپ کی کسی بات کا جواب دیتا یا اس پر کوئی سوال کرتا مگر اسی غرض سے اب تک آپ کے جوابات کے متعلق خدشے و سوالات کرتا رہا ہوں کہ آپ کی کلام سے وہ نتائج پیدا ہوں جن کو میں عام اہل اسلام پر ظاہر کرنا چاہتا ہوں اس غرض سے میں اب آپ کی تحریرات سابقہ و حال پر تفصیلی نکتہ چینی کرتا ہوں جس کا وعدہ اپنی تحریرات سابقہ میں دے چکا ہوں اس نکتہ چینی میں بالاستقلال تو آپ کا پرچہ نمبر ۵ نشانہ ہوگا مگر اس کے ضمن میں آپ کی جملہ تحریرات سابقہ کا جواب آجائے گا۔ بحول اللّٰہ و قوّتہ۔ آپ لکھتے ہیں کہ احادیث کے دو حصے ہیں اول وہ جو تعامل میں آچکا ہے اس میں تمام ضروریات دین اور عبادات اور معاملات اور احکام شرع داخل ہیں یہ حصہ بلاشبہ صحیح ہے مگر اس کی صحت نہ روایت کی رو سے ہے بلکہ تعامل کے ذریعہ سے۔ دوسرا وہ حصہ جس پر تعامل نہیں پایا گیا یہ حصہ یقیناً صحیح نہیں ہے کیونکہ اس کا مدار صرف اصول روایت پر ہے اور اصول روایت سے صحت کا ثبوت اور کامل اطمینان نہیں ہوسکتا ہاں اس حصہ کی قرآن کریم سے موافقت ثابت ہو تو یہ بھی یقیناً صحیح تسلیم کیا جاسکتا ہے۔ اس قول سے ثابت ہے اور یہ ہی جتانا اس وقت مدنظر ہے کہ آپ فن حدیث اور اصول روایت اور قوانین درایت سے محض ناواقف ہیں اور مسائل اسلامیہ سے ناآشنا۔ آپ یہ نہیں جانتے کہ ضروریات دین اصطلاح علماء اسلام میں کس کو کہتے ہیں اور تعامل کی کیا حقیقت ہے اور وہ جملہ احادیث معاملات احکام سے متعلق کیونکر ہوسکتا ہے اور اہل اسلام کے نزدیک اصول تصحیح روایت کیا ہیں۔ خاکسار ہر ایک امر سے آپ کو اور دیگر ناواقف ناظرین کو مطلع کر کے یہ جتانا چاہتا ہے کہ جو کچھ آپ نے کہا ہے وہ ناواقفی پر مبنی ہے اور وہ میرے سوال کا جواب نہیں ہوسکتا۔ پس واضح ہو کہ ضروریات دین وہ کہلاتے ہیں جو دین سے ضرورۃً یعنی بداہۃً اور بلافکر معلوم ہوں اور نہ وہ امور جن کی طرف دین کی ضرورت یعنی حاجت متعلق ہو۔ ضرورت سے مراد امور متعلقہ حاجت ہوں تو اس سے آنحضرت کی کوئی حدیث خارج و مستثنیٰ نہیں ہوتی۔ آنحضرت ؐ نے جو کچھ دین میں فرمایا ہے وہ دینی حاجت و ضرورت کے متعلق ہے اس صورت میں دوسرا حصہ احادیث جس کو آپ یقیناً صحیح نہیں جانتے ضروریات دین میں داخل ہوجاتا ہے۔ اگرآپ یہ کہیں کہ ضروریات سے میری مراد بھی وہی ہے جو تم نے بیان کی ہے تو پھر جملہ احکام معاملات و عقود کو ضروریات میں شامل کرنا غلط قرار پاتا ہے۔ احکام متعلقہ معاملات بلکہ عبادات جملہ ایسے نہیں جو بداہۃً دین سے ثابت ہوں کسی حکم یا امر پر تعامل کی صورت یہ ہے