جو قبل از مصلوبیت مسیح تھے اب بھی اُسی زور و شور میں ہیں بلکہ کچھ چڑھ، بڑھ کر۔ مثلاً دیکھئے کہ اس زمانہ میں کہ جب ابھی مسیحیوں کا خدا زندہ تھا عیسائیوں کی حالت اچھی تھی جبھی کہ اس خدا پر موت آئی جس کو کفّارہ کہا جاتا ہے۔ تبھی سے عجیب طور پر شیطان اس قوم پر سوار بقیہ حاشیہ :۔ کسی بُری مد میں شامل نہیں سمجھا گیا اور یہاں تک شراب نوشی کی علانیہ گرم بازاری ہے کہ میں نے بچشم خود ہنگام سیر لندن اکثر انگریزوں کو بازار میں پھرتے دیکھا کہ متوالے ہو رہے ہیں اور ہاتھ میں شراب کی بوتل ہے۔ علٰی ہذا القیاس۔ لندن میں عورتیں دیکھی جاتی تھیں کہ ہاتھ میں بوتل بیئر پکڑے لڑکھڑاتی چلی جاتی ہیں۔ بیسیوں لوگ شراب سے مدہوش اور متوالے، اچھے بھلے، بھلے مانس مہذب بازاروں کی نالیوں میں گرے ہوئے دیکھے۔ شراب نوشی کے طفیل اور برکت سے لندن میں اس قدر خود کشی کی وارداتیں واقعہ ہوتی رہتی ہیں کہ ہر ایک سال اُن کا ایک مہلک وبا پڑتا ہے (یکم فروری ۱۸۸۳ء۔ رہبر ہند لاہور) اسی طرح ایک صاحب نے لندن کی عام زناکاری اور قریب ستر ستر ہزار کے ہر سال ولدالزنا پیدا ہونا ذکر کر کے وہ باتیں ان لوگوں کی بے حیائی کی لکھی ہیں کہ جن کی تفصیل سے قلم رُکتی ہے۔ بعض نے یہ بھی لکھا ہے کہ یورپ کے اوّل درجہ کے مہذب اور تعلیم یافتہ لوگوں کے اگر دس حصے کئےؔ جائیں تو بلاشبہ نوحصے ان میں سے دہریہ ہوں گے جو مذہب کی پابندی اور خدائے تعالیٰ کے اقرار اور جزاسزا کے اعتقاد سے فارغ ہو بیٹھے ہیں اور یہ مرض دہریّت کا دن بدن یورپ میں بڑھتا جاتا ہے اور معلوم ہوتا ہے کہ دولت برطانیہ کی کشادہ دلی نے اس کی ترقی سے کچھ بھی کراہت نہیں کی۔ یہاں تک کہ بعض پکے دہریہ پارلیمنٹ کی کرسی پر بھی بیٹھ گئے اور کچھ پرواہ نہیں کی گئی۔ نامحرم لوگوں کو نوجوان عورتوں کا بوسہ لینا صرف جائز ہی نہیں بلکہ یورپ کی نئی تہذیب میں ایک مستحسن امر قرار دیا گیا ہے۔ کوئی دعویٰ سے نہیں کہہ سکتا کہ انگلستان میں کوئی ایسی عورت بھی ہے کہ جس کا عین جوانی کے دنوں میں کسی نامحرم جوان نے بوسہ نہ لیا ہو۔ دنیا پرستی اس قدر ہے کہ آروپ الیگزانڈر صاحب اپنی ایک چٹھی میں (جو میرے نام بھیجی ہے) لکھتے