افترائی باتوں پر کیوں تعجب کرنا چاہئے۔ ایسا بہت کچھ ہوا ہے اور ہوتا ہے۔ عیسائیوں کو آپ اقرار ہے کہ ہم میں سے بہت لوگ ابتدائی زمانوں میں اپنی طرف سے کتابیں بنا کر اور بہت کچھ کمالات اپنے بزرگوں کے ان میں لکھ کر پھر خدا ئے تعالیٰ کی طرف اُن کو منسوب کرتے رہے ہیں اور دعویٰ کر دیا جاتا تھا کہ وہ خدا ئے تعالیٰ کی طرف سے کتابیں ہیں۔ * پس جب کہ قدیم عادت عیسائیوں اور یہودیوں کی یہیؔ جعلسازی چلی آئی ہے تو پھر کوئی وجہ معلوم نہیں ہوتی کہ متی وغیرہ انجیلوں کو اس عادت سے کیوں باہر رکھا جائے؟
* جوؔ کچھ انجیلوں میں ناجائز اور بے ثبوت مبالغہ معجزات حضرت مسیح کی نسبت یا ان کی ناواجب تعریفوں کے بارے میں پایا جاتا ہے۔ اس کی تحقیق کرنا مشکل ہے کہ کب اور کس وقت یہ باتیں انجیلوں میں ملائی گئی ہیں۔ اگرچہ عیسائیوں کو اقرار ہے کہ خود انجیل نویسوں نے یہ باتیں اپنی طرف سے ملا دی ہیں مگر اس عاجز کی دانست میں یہ حاشئے آہستہ آہستہ چڑھے ہیں۔ اور جعلساز مکار پیچھے سے بہت کچھ موقع پاتے رہے ہیں ہاں مستقل طور پر کئی جعلی کتابیں جو الہامی ہونے کے نام سے مشہور ہوگئیں حضراؔ ت مسیحوں اور یہودیوں نے اوائل دنوں میں ہی تالیف کر کے شائع کر دی تھیں۔ چنانچہ اسی جعلسازی کی برکت سے بجائے ایک انجیل کے بہت سی انجیلیں شائع ہو گئیں عیسائیوں کا خود یہ بیان ہے کہ مسیح کے بعد جعلی انجیلیں کئی تالیف ہوئیں۔ جیسا کہ منجملہ اُن کے ایک انجیل برنباس بھی ہے۔ یہ تو عیسائیوں کا بیان ہے۔ مگر میں کہتا ہوں کہ چونکہ اُن انجیلوں اور اناجیل اربعہ مروجہ میں بہت کچھ تناقض ہے یہاں تک کہ برنباس کی انجیل مسیح کے مصلوب ہونے سے بھی منکر اور مسئلہ تثلیث کے بھی مخالف اور مسیح کی الوہیت اور ابنیت کو بھی نہیں مانتی اور نبی آخرالزمان صلی اللہ علیہ وسلم کے آنے کی صریح لفظوں میں بشارت دیتی ہے۔ تو اب عیسائیوں کے اس دعوٰی بے دلیل کو کیونکر مان لیا جائے کہ جن انجیلوں کو اُنہوں نے رواج دیا ہے۔ وہ تو سچی ہیں اور جو اُن کے مخالف ہیں وہ سب جھوٹی ہیں۔ ماسوا اس کے جب کہ عیسائیوں میں جعل کی اس قدر گرم بازاری رہی ہے کہ بعض کامل اُستادوں نے