اب قصہ کوتاہ یہ کہ آپ نے آیت متذکرہ بالا کے لا نافیہ کو قرائن کی حد سے زیادہ کھینچ دیا ہے ایسا لا نافیہ عربوؔ ں کے کبھی خواب میں بھی نہیں آیا ہوگا۔ ان کے دل تو اسلام کی حقیت سے بھرے ہوئےؔ تھے۔ تب ہی تو سب کے سب بجز معدودے چند کہ جو اس عذاب کو پہنچ گئے تھے جس کا اُن کو وعدہ دیا گیا تھا بالآخر مشرف بالاسلام ہوگئے تھے اور پھر بھی نہ صاف طور پر بلکہ شرط پر شرط لگانے سے جن کا ذکر قرآن شریف میں جابجاآیا ہے۔ پس سوچنے والے کیلئے عرب کے شریروں کی ایسی درخواستیں ہمارے سیّد و مولیٰ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے معجزات ظاہرہ و آیات بینہ و رسولانہ ہیئت پر صاف اور کھلی کھلی دلیل ہے۔ خدا جانے ان دل کے اندھوں کو ہمارے مولیٰ و آقا محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم کے انوار صداقت نے کس درجہ تک عاجز و تنگ کر رکھا تھا اور کیا کچھ آسمانی تائیدات و برکات کی بارشیں ہو رہی تھیں کہ جن سے خیرہ ہو کر اور جن کی ہیئت سے منہ پھیر کر سراسرٹالنے اور بھاگنے کی غرض سے ایسی دور از صواب درخواستیں پیش کرتے تھے۔ ظاہر ہے کہ اس قسم کے معجزات کا دکھلانا ایمان بالغیب کی حد سے باہر ہے۔ یوں تو اللہ جلشانہٗ قادر ہے کہ زمین سے آسمان تک زینہ رکھ دیوے۔ جس کو سب لوگ دیکھ لیویں اور دو چار ہزار کیا دوچار کروڑؔ آدمیوں کو زندہ کر کے ان کے منہ سے اُن کی اولاد کے سامنے صدق نبوت کی گواہی دلا دیوے۔ یہ سب کچھ وہ کر سکتا ہے مگر ذرا سوچ کر دیکھو کہ اس انکشاف تام سے ایمان بالغیب جو مدار ثواب اور اجر ہے دور ہو جاتا ہے اور دنیا نمونہ محشر ہو جاتی ہے۔ پس جس طرح قیامت کے میدان میں جو انکشاف تام کا وقت ہوگا ایمان کام نہیں آتا۔ اِسی طرح اس انکشاف تام سے بھی ایمان لانا کچھ مفید نہیں بلکہ ایمان اسی حد تک ایمان کہلاتا ہے کہ جب کچھ اخفا بھی باقی رہے جب سارے پردے کھل گئے تو پھر ایمان ایمان نہیں رہتا اسی وجہ سے سارے نبی ایمان بالغیب کی رعایت سے معجزے دکھلاتے رہے ہیں کبھی کسی نبی نے ایسا نہیں کیا کہ ایک شہر کا شہر زندہ کر کے ان سے اپنی نبوت کی گواہی دلاوے یا آسمان تک نرد بان رکھ کر اور سب کے روبرو چڑھ کر تمام دنیا کو تماشا دکھلاوے۔