ہے۔ (۱۱) آج کے دن میں جو حکم تجھے کرتا ہوں تو اُسے یاد رکھیو۔ (۱۲) ہوشیار رہ تا نہ ہووے کہ اُس زمین کے باشندوں کے ساتھ جس میں تو جاتا ہے کچھ عہد باندھے۔ (۱۷) تو اپنے لئے ڈھالے ہوئے معبودوں کو مت بنائیو۔
اب ان آیات کا سیاق سباق دیکھنے سے صاف ظاہر ہے کہ اگرچہ ان آیات میں حضرت موسیٰ ؑ مخاطب کئے گئے تھے مگر دراصل حضرت موسیٰ علیہ السلام کو اِن احکام کا نشانہ نہیں بنایا گیا۔ حضرت موسیٰ علیہ السلام نہ کنعان میں گئے اور نہ ُ بت پرستی جیسا بُرا کام حضرت موسیٰ علیہ السلام جیسے مردِ خدا ُ بت شکن سے ہو سکتا تھا جس سے ان کو منع کیا جاتا کیونکہ موسیٰ علیہ السلام وہ مقربُ اللہ ہے جس کی شان میں اسی باب میں خدا ئے تعالیٰ فرماتا ہے کہ تو میری نظر میں منظور ہے اور میں تجھ کو بنام پہچانتا ہوں دیکھو خروج باب ۳۳آیت (۱۷)
سوؔ یاد رکھنا چاہیے کہ یہی طرز قرآن شریف کی ہے توریت اور قرآن شریف میں اکثر احکام اسی شکل سے واقعہ ہیں کہ گویا مخاطب اُن کے حضرت موسیٰ علیہ السلام اور جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہیں مگر دراصل وہ خطاب قوم اور اُمت کے لوگوں کی طرف ہوتا ہے لیکن جس کو ان کتابوں کی طرز تحریر معلوم نہیں وہ اپنی بے خبری سے یہی خیال کر لیتا ہے کہ گویا وہ خطاب و عتاب نبی منزل علیہ کو ہو رہا ہے مگر غور اور قرائن پر نظر ڈالنے سے اُس پر کھل جاتا ہے کہ یہ سراسر غلطی ہے۔
پھر یہ اعتراض اُن آیات پر نظر ڈالنے سے بھی بکلّی مستاصل ہوتا ہے جن میں اللہ جل شانہٗ نے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے یقین کامل کی تعریف کی ہے جیسا کہ وہ ایک جگہ فرماتا ہے۔ ۱ س نمبر ۷ یعنی کہہ کہ مجھے اپنی رسالت پر کھلی کھلی دلیل اپنے ربّ کی طرف سے ملی ہے اور پھر دوسری جگہ فرماتا ہے