اس آیت کے آگے بھی اسی مضمون کے متعلق آیتیں ہیں چنانچہ فرماتا ہے َ ۱ یعنی ہر ایک طرف سے جو تو نکلے تو خانہ کعبہ کی ہی طرف نماز پڑھ یہی تیرے ربّ کی طرف سے حق ہے غرض صاف ظاہر ہے کہ یہ تمام آیات خانہ کعبہ کے بارے میں ہیں نہ کسی اور تذکرہ کے متعلق اور چونکہ یہ حکم جو خانہ کعبہ کی طرف نماز پڑھنے کے لئے صادر ہوا ایک عام حکم ہے جس میں سب مسلمان داخل ہیں لہٰذا بعموم منشاء حکم بعض وسوسے والی طبیعتوں کا وسوسہ دور کرنے کے لئے ان آیات میں اُن کو تسلی دی گئی کہ اس بات سے متردد نہ ہوں کہ پہلے بیت المقدس کی طرف نماز پڑھتے پڑھتے اب اُس طرف سے ہٹ کر خانہ کعبہ کی طرف نماز پڑھنا کیوں شروع کر دیا سو فرمایا کہ یہ کوئی نئی بات نہیں بلکہ یہ وہی مقرر شدہ بات ہے جس کو خدا ئے تعالیٰ نے اپنے پہلے نبیوں کے ذریعے سے پہلے ہی سے بتلا رکھا تھا اس میں شک مت کرو۔
دوسری آیت میں جو معترض نے بتائید دعویٰ خود تحریر کی ہے وہ سورہ انعام کی ایک آیت ہے جو معہ اپنی آیات متعلقہ کے اس طرح پر ہے َ۲ یعنی کیا بجز خدا کے میں کوئی اور حَکَم طلب کروں اور وہ وہی ہے جس نے مفصل کتاب تم پر اُتاری اورؔ جن لوگوں کو ہم نے کتاب یعنی قرآن دیا ہے مراد یہ ہے کہ جن کو ہم نے علمِ قرآن سمجھایا ہے وہ خوب جانتے ہیں کہ وہ منجانب اللہ ہے سواے پڑھنے والے تو شک کرنے والوں میں سے مت ہو۔
اب اِن آیات پر نظر ڈالنے سے صاف معلوم ہوتا ہے کہ مخاطب اس آیت کے جو ہے ایسے لوگ ہیں جو ہنوز یقین اور ایمان اور علم سے