کیونکہ لا نافیہ اس آیت میں جو کہ جنسی ہے کل جنس کی نفی کرتا ہے) اس کے ربّ سے۔ اور سورۂ بنی اسرائیل میں بھی۔ اور ہم نے موقوف کیں نشانیاں بھیجنی کہ اگلوں نے ان کو جھٹلایا۔ اس سے صاف صاف ظاہر ہے خدا نے کوئی معجزہ نہیں دیا۔ حقیقت میں اگر کوئی ایک معجزہ ملتا تو وہ نبوت اور قرآن پر متشکی نہ ہوتے۔
سوم : اگر محمد صلی اللہ علیہ وسلم پیغمبرہوتے تو اس وقت کے سوالوں کے جواب میں لاچار ہو کر یہ نہ کہتے کہ خدا کو معلوم یعنی مجھ کو معلوم نہیں اور اصحابِ کہف کی بابت ان کی تعداد میں غلط بیانی نہ کرتے اور یہ نہ کہتے کہ سورج چشمہ دلدل میں چھپتا ہے یا غرق ہوتا ہے حالانکہ سورج زمین سے نوکروڑ حصہ بڑاہے وہ کس طرح دلدل میں چھپ سکتا ہے۔
نوٹ:۔ حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے عبد اللہ جیمز کے تیسرے سوال کو (غالباً اس کی اہمیت کے پیش نظر) دوسرا سوال قرار دے کر اس کا جواب دیا ہے اور دوسرے سوال کو آخر میں رکھا ہے۔ جبکہ حضرت خلیفۃ المسیح الاول رضی اللہ عنہ نے عبد اللہ جیمز کے سوالات کی ترتیب کو قائم رکھا ہے۔ (ناشر)