ہرگز حاصل نہیں ہو سکتا اور سچے متبع کے مقابل پر اگر کوئی عیسائی یا آریہ یا یہودی قبولیت کے آثار و انوار دکھلانا چاہے تو یہ اس کے لئے ہرگز ممکن نہ ہوگا اور نہایت صاف طریق امتحان کا یہ ہے کہ اگر ایک مسلمان صالح مقابل پر جو سچا مسلمان اور سچائی سے نبی صلی اللہ علیہ و سلم کا متبع ہو اور کوئی دوسرا شخص عیسائی وغیرہ معاوضہ کے طور پر کھڑا ہو اور یہ کہے کہ جس قدر تجھ پر آسمان سے کوئی نشان ظاہر ہوگا یا جس قدر اسرار غیبیہ تجھ پر کھلیں گے یا جو کچھ قبولیت دعاؤں سے تجھے مدد دی جائے گی یا جس طور سے تیری عزت او ر شرف کے اظہار کے لئے کوئی نمونہ قدرت ظاہر کیا جائے گا یا اگر انعامات خاصہ کا بطور پیشگوئی تجھے و عدہ دیا جائے گا یا اگر تیرے کسی موذی مخالف پر کسی تنبیہہ کے نزول کی خبر دی جائے گی تو ان سب باتوں میں جو کچھ تجھ سے ظہور میں آئے گا او رجو کچھ تو دکھلائے گا وہ مَیں بھی دکھلاؤں گا۔ تو ایسا معارضہ کسی مخالف سے ہرگز ممکن نہیں اور ہرگز مقابل پر نہیں آئیں گے کیونکہ ان کے دل شہادت دے رہے ہیں کہ وہ کذاب ہیں انہیں اس سچے خدا سے کچھ بھی تعلق نہیں کہ جو راستبازوں کا مددگار اور صدیقوں کا دوست دار ہے جیسا کہ ہم پہلے بھی کسی قدر بیان کر چکے ہیں۔ و ھٰذااٰخر کلامنا والحمد لِلّٰہِ اوّلًا وَّ اٰخرًا وَّ ظاہرًا وَّ باطنًا ھو مولانا نعم المولٰی و نعم الوکیل۔‘‘ ناظر اشاعت