لیکن کوئی قصد بجز توفیق و فضل و امداد و رحمت الٰہی انجام پذیر نہیں ہوسکتا اور خدائے تعالیٰ کی بشارات پر نظر کر کے جو بارش کی طرح برس رہی ہیں اس عاجز کو یہی امید ہے کہ وہ اپنے اس بندہ کو ضائع نہیں کرے گا اور اپنے دین کو اس خطرناک پراگندگی میں نہیں چھوڑے گا جو اب اس کے لاحق حال ہے مگر برعایت ظاہری جو طریق مسنون ہے ۱؂ یہی کہنا پڑتا ہے۔ سو بھائیو جیسا میں ابھی بیان کرچکا ہوں سلسلہ تالیفات کو بلافصل جاری رکھنے کیلئے میرا پختہ ارادہ ہے اور یہ خواہش ہے کہ اس رسالہ کے چھپنے کے بعد جس کا نام نشان آسمانی ہے رسالہ دافع الوساوس طبع کرا کر شائع کیا جاوے اور بعد اس کے بلا توقف رسالہ حیات النبی وممات المسیح جو یورپ اور امریکہ کے ملکوں میں بھی بھیجا جائے گاشائع ہو اور بعد اس کے بلا توقف حصہ پنجم براہین احمدیہ جس کا دوسرا نام ضرورت قرآن رکھا گیا ہے ایک مستقل کتاب کے طور پر چھپنا شروع ہو لیکن میں اس سلسلہ کے قائم رکھنے کیلئے یہ احسن انتظام خیال کرتا ہوں کہ ہر یک رسالہ جو میری طرف سے شائع ہو میرے ذی مقدرت دوست اس کی خریداری سے مجھ کو بدل و جان مدد دیں اس طرح پر کہ حسب مقدرت اپنی ایک نسخہ یا چند نسخے اس کے خریدلیں جن رسائل کی قیمت تین آنہ یا چار آنہ یا اس کے قریب ہو۔ ان کو ذی مقدرت احباب اپنے مقدور کے موافق ایک مناسب تعداد تک لے سکتے ہیں اور پھر وہی قیمت دوسرے رسالہ کے طبع میں کام آسکتی ہے۔ اگر میری جماعت میں ایسے احباب ہوں جو ان پر بوجہ املاک و اموال و زیورات وغیرہ کے زکٰوۃ فرض ہو تو ان کو سمجھنا چاہئے کہ اس وقت دین اسلام جیسا غریب اور یتیم اور بے کس کوئی بھی نہیں اور زکوٰۃ نہ دینے میں جس قدر تہدید شرع وارد ہے وہ بھی ظاہر ہے اور عنقریب ہے جو منکر زکوٰۃ کافر ہوجائے پس فرض عین ہے جو اسی راہ میں اعانت اسلام میں زکوٰۃ دی جاوے زکوٰۃ میں کتابیں خریدی جائیں اور مفت تقسیم کی جائیں اور میری تالیفات بجز ان رسائل کے اور بھی ہیں جو نہایت مفید ہیں جیسے رسالہ احکام القرآن اور اربعین فی علامات المقربین اور سراج منیر اور تفسیر کتاب عزیز۔ لیکن چونکہ کتاب براہین احمدیہ کا کام از بس ضروری ہے اسلئے بشرط فرصت کوشش کی جائے گی کہ یہ رسائل بھی درمیان میں طبع ہو کر شائع ہوجائیں آئندہ ہر ایک امر اللہ جلّ شانہٗ کے اختیار میں ہے یَفْعَلُ مَایَشَآءُ وَھُوَ عَلٰی کُلِّ شَیْءٍ قَدِیْرٌ ۔ خاکسار غلام احمد از قادیان ضلع گورداسپور ۲۸؍ مئی ۱۸۹۲ ؁ء