کہ جب ایک معقول اندازہ ان خوابوں اور الہاموں کا ہوجائے تو ان کو ایک رسالہ مستقلہ کی صورت میں طبع کرکے شائع کیا جائے۔ کیونکہ یہ بھی ایک شہادت آسمانی اور نعمت الٰہی ہے اور خدائے تعالیٰ فرماتا ہے کہ ۱ لیکن پہلے اس سے ضروری طور پر یہ اطلاع دی جاتی ہے کہ آئندہ ہر ایک صاحب جو کوئی خواب یا الہام اس عاجز کی نسبت دیکھ کر بذریعہ خط اس سے مطلع کرنا چاہیں تو ان پر واجب ہے کہ خدائے تعالیٰ کی قسم کھاکر اپنے خط کے ذریعہ سے اس بات کو ظاہر کریں کہ ہم نے واقعی اور یقینی طور پر یہ خواب دیکھی ہے اور اگر ہم نے کچھ اس میں ملایا ہے تو ہم پر اسی دنیا اور آخرت میں *** اور عذاب الٰہی نازل ہو اور جو صاحب پہلے قسم کھاکر اپنی خوابیں بیان کر چکے ہیں ان کو دوبارہ لکھنے کی ضرورت نہیں مگر وہ تمام صاحب جنہوں نے خوابیں یا الہامات تو لکھ کر بھیجے تھے لیکن وہ بیانات ان کے موکد بقسم نہیں تھے ان پر واجب ہے کہ پھر دوبارہ ان خوابوں یا الہامات کو قسم کے ساتھ موکد کرکے ارسال فرماویں اور یاد رہے کہ بغیر قسم کے کوئی خواب یا الہام یا کشف کسی کا نہیں لکھا جاوے گا۔ اور قسم بھی اس طرز کی چاہئے جو ہم نے ابھی بیان کی ہے۔
اس جگہ یہ بھی بطور تبلیغ کے لکھتا ہوں کہ حق کے طالب جو مواخذہ الٰہی سے ڈرتے ہیں وہ بلاتحقیق اس زمانہ کے مولویوں کے پیچھے نہ چلیں اور آخری زمانہ کے مولویوں سے جیسا کہ پیغمبر خدا صلی اللہ علیہ وسلم نے ڈرایا ہے ویسا ہی ڈرتے رہیں اورؔ ان کے فتووں کو دیکھ کر حیران نہ ہوجاویں کیونکہ یہ فتوے کوئی نئی بات نہیں اور اگر اس عاجز پر شک ہو اور وہ دعویٰ جو اس عاجز نے کیاہے اس کی صحت کی نسبت دل میں شبہ ہو تو میں ایک آسان صورت رفع شک کی بتلاتا ہوں جس سے ایک طالب صادق انشاء اللہ مطمئن ہوسکتا ہے اور وہ یہ ہے کہ اول توبہ نصوح کرکے رات کے وقت دو رکعت نماز پڑھیں جس کی پہلی رکعت میں سورۃ یٰسین اور دوسری رکعت میں