مولوی محمد حسن صاحب رئیس اعظم لودیانہ کی خدمت میں میرا آنا جانا بہت تھا وہ ایک دفعہ مجھ کو خواب میں نظر آئے۔ کیا دیکھتا ہوں کہ وہ ایک جماعت میں بیٹھے ہیں اور لباس ان کا نہایت سفید ہے اور بہت عمدہ اور خوبصورت ہے اور جس قدر ان کی محفل ہے تمام محفل کے لوگ سفید پوش ہیں اس وقت میرے دل میں یہ ڈالا گیا کہ مولوی محمد شاہ صاحب دین اور شریعت پر استقامت رکھتے ہیں اس لئے یہ لباس نظر آتا ہے۔ ایک دفعہ مجھ کو یہ خواب آیا کہ کوئی شخص مجھ کو کہتا ہے کہ تجھے ستر۷۰ ایمان بخشے گئے ہیں۔ یہ خواب میں نے مولوی محمد شاہ صاحب موصوف کے پاس بیان کیا تو آپ نے فرمایا کہ ایمان تو ایک ہی ہوتا ہے مگر یہ کمال ایمان کی طرف اشارہ ہے اور ستر ۷۰کے عدد سے قوت ایمان اور خاتمہ بالخیر کا ظاہر کرنا مقصود ہے۔ سو الحمد للہ کہ اس طوفان کے وقت میں میں نے حقؔ کو پہچان لیا اور خدا ئے تعالیٰ نے بچا لیا۔
میں خوب جانتا ہوں کہ یہ تمام برکات گلاب شاہ صاحب کی صحبت کی ہیں وہ فرمایا کرتے تھے کہ اگر میری صحبت میں رہنے سے کسی کو کچھ بھی فائدہ نہ ہو تو یہ فائدہ تو ضرور ہوگا کہ اس کی عبادت میں حلاوت و قبولیت پیدا ہوگی یعنی خطرہ سلب ایمان سے بچ جائے گا۔ سو خدا تعالیٰ نے اس فتنہ کے زمانہ میں مجھے ٹھوکر سے محفوظ رکھا اور مرزا صاحب کی سچائی پر میرے دل کو قائم کردیا۔
بالآخر یہ بھی واضح رہے کہ اگرچہ میں نے اللہ جلّ شانہٗ کی قسم کھا کر یہ اشتہار شائع کیا ہے لیکن جیسا کہ میں ازالہ اوہام میں لکھوا چکا ہوں میرے چال چلن کے واقف اس نواح میں بہت لوگ ہیں وہ خوب جانتے ہیں کہ میری زندگی کیسی صلاح اور تقویٰ سے گذری ہے اور ہمیشہ خدائے تعالیٰ نے مجھ کو ناپاک طریقوں جھوٹ اور افترا سے محفوظ رکھا ہے اور شہر لودیانہ کے سرگروہ موحدین حضرت مولوی محمد حسن صاحب جن کے دادا صاحب کے وقت سے میں اس خاندان کے ساتھ تعلق محبت و ارادت رکھتا ہوں اور ہم قومی کا شرف بھی مجھ کو حاصل ہے وہ میرے حال سے خوب واقف ہیں۔ وہ باوجود اختلاف رائے کے پھر بھی میرے لئے قرآن شریف اٹھا کر قسم کھا سکتے ہیں کہ کریم بخش