عیسیٰ کی مشابہت پائی جاتی ہے۔ سو عیسیٰ اور دجّال کا تخم اسی وقت سے شروع ہوا اور مرور زمانہ کے ساتھ جیسی جیسی ظلمت فتنہ کی دجالیت کے رنگ میں کچھ زیادتی آتی گئی ویسی ویسی عیسویت کی حقیقت والے بھی اسکے مقابل پر پیدا ہوتے گئے یہاں تک کہ آخری زمانہ میں بباعث پھیل جانے فسق اور فجور اور کفر اور ضلالت اور بوجہ پیدا ہوجانے ان تمام بدیوں کے جو کبھی پہلے اس زور اور کثرت سے پیدا نہیں ہوئی تھیں بلکہ نبی کریم نے آخری زمانہ میں ہی ان کا پھیلنا بطور پیشگوئی بیان فرمایا تھا دجالیت کاملہ ظاہر ہو گئی پس اس کے مقابل پر ضرور تھا کہ عیسویت کاملہ بھی ظاہر ہوتی یاد رہے کہ نبی کریم نے جن بد باتوں کے پھیلنے کی آخری زمانہ میں خبر دی ہے اسی مجموعہ کا نام دجالیت ہے جس کی تاریں یا یوں کہو کہ جس کی شاخیں صدہا قسم کی آنحضرت نے بیان فرمائی ہیں چنانچہ ان میں سے وہ مولوی بھی دجالیت کے درخت کی شاخیں ہیں جنہوں نے لکیر کو اختیار کیا اور قرآن کو چھوڑ دیا۔ قرآن کریم کو پڑھتے تو ہیں مگر ان کے حلقوں کے نیچے نہیں اترتا۔ غرض دجالیت اس زمانہ میں عنکبوت کی طرح بہت سی تاریں پھیلا رہی ہے۔ کافر اپنے کفر سے اور منافق اپنے نفاق سے اور میخوار میخواری سے اور مولوی اپنے شیوہ گفتن و نہ کردن اور سیہؔ دلی سے دجالیت کی تاریں ُ بن رہے ہیں ان تاروں کو اب کوئی کاٹ نہیں سکتا بجز اُس حربہ کے جو آسمان سے اترے اور کوئی اس حربہ کو چلا نہیں سکتا بجز اس عیسیٰ کے جو اسی آسمان سے نازل ہو سو عیسیٰ نازل ہوگیا۔ وکان وعداللّٰہ مفعولًا۔ اب ہم ذیل میں ان پیشگوئیوں کو لکھتے ہیں جن کے لکھنے کا وعدہ تھا لیکن ہم بوجہ تقدم زمان مناسب سمجھتے ہیں کہ پہلے نعمت اللہ ولی کی پیشگوئی معہ رسول صلی اللہ علیہ و سلم کی پیشگوئی کے لکھی جائے ۔پھر بعد اسکے میاں گلاب شاہ کی پیشگوئی جیسا کہ میاں کریم بخش نے لکھائی ہے درج کی جائے وباللہ التوفیق۔ واضح ہو کہ نعمت اللہ ولی رہنے والے دہلی کے نواح کے اور ہندوستان کے اولیا ء کاملین میں سے مشہور ہیں۔ ان کا زمانہ پانسو ساٹھ ہجری ان کے دیوان کے حوالہ سے بتلایا گیا ہے اور جس کتاب میں ان کی یہ پیشگوئی لکھی ہے اسکے طبع کا سن بھی ۲۵ محرم الحرام ۱۸۶۸ء *ہے اس حساب سے