قسم کے دھوکوں کے نمونے دوسری قوموں میں بھی پائے جاتے ہیں۔ لوگ عادت اللہ کی طرف خیال نہیں کرتے اور وہ معنے جو مسنون اللہ اور قرین قیاس ہیں ترک کر کے ایک بے ہودہ اور بے اصل معنے قبول کر لیتے ہیں سو سید احمد صاحب کا دوبارہ آنا جو ہمارے اکثر موحد بھائی بڑے ذوق و شوق سے انتظار کررہے ہیں درحقیقت اسی قسم کے خیالات میں سے ہے اے حضرات!احمد آنے والا آگیا۔ اب تم بھی سمجھ لو کہ سید احمد آگیا کیونکہ مومن کنفسٍ واحدۃٍ ہوتے ہیں۔ ولِلّٰہِ دَرّالقائل۔ انبیاء در اولیاء جلوہ دہند ہر زمان آیند در رنگے دگر ہائے افسوس لوگ اس بات سے کیسے بے خبر ہیں کہ ہر ایک فرد بشر کو موت لگی ہوئی ہے اور دوبارہ آنا کسی فوت شدہ کا۔ یعنی حقیقی طور پر خدائے تعالیٰ ہرگز تجویز نہیں کرتا اور کوئی صالح آدمی دو موتوں اور دو جان کندنوں سے ہرگز معذب نہیں ہوسکتا۔ اس بے ہودہ خیال سے کہ مسیحؔ ابن مریم زندہ آسمان پر بیٹھا ہے بڑے بڑے فتنے دنیا میں پڑ گئے ہیں دراصل عیسائیوں کے پاس مسیح کو خدا ٹھہرانے کی یہی بنیاد ہے اور اس کو زندہ ماننے سے رفتہ رفتہ انکا یہ خیال ہوگیا کہ اب باپ کچھ نہیں کرتا سب کچھ اس نے اپنے بیٹے کو جو زندہ موجود ہے سپرد کررکھا ہے۔ غرض یہی اول دلیل مسیح کے خدا ہونے کی عیسائیوں کے پاس ہے۔ جس کی ہمارے علماء تائید کررہے ہیں مگر حق بات یہی ہے کہ وہ فوت ہوگئے قرآن کریم ان کے فوت پر انہیں لفظوں سے شاہد ہے جو دوسرے موتی کیلئے استعمال کئے گئے ہیں بخاری میں ہمارے نبی صلی اللہ علیہ و سلم ان کی موت کی تصدیق کرتے ہیں ابن عباس جیسے جلیل الشان صحابی اس آیت توفّی عیسیٰ کے بھی موت ہی معنے بیان کرتے ہیں اور طبرانی اور حاکم حضرت عائشہ سے روایت کرتے ہیں کہ عیسیٰ ایک سو بیس برس تک زندہ رہا۔ اسی حدیث میں آنحضرت صلی اللہ علیہ و سلم فرماتے ہیں کہ عیسیٰ سے میری عمر آدھی ہے۔ اب ظاہر ہے کہ اگر حضرت عیسیٰ فوت نہیں ہوئے تو غالباً ہمارے نبی