تو پھر انبیاء کا تمثل اُس پر کیا مشکل ہے اب جب کہ یہ بات ہے تو فرض کے طور پر اگر مان لیں کہ کسی کو آنحضرت صلعم کی زیارت ہوئی تو اس بات پر کیونکر مطمئن ہوں کہ وہ زیارت درحقیقت آنحضرت صلعم کی ہے کیونکہ اس زمانہ کے لوگوں کو ٹھیک ٹھیک حلیہ نبوی پر اطلاع نہیں اور غیر حلیہ پر تمثل شیطان جائز ہے پس اس زمانہ کے لوگوں کیلئے زیارت حقہ کی حقیقی علامت یہ ہے کہ اُس زیارت کے ساتھ بعض ایسے خوارق اور علامات خاصہ بھی ہوں جن کی وجہ سے رؤیا یا کشف کے منجانب اللہ ہونے پر یقین کیا جائے مثلاً رسول اللہ صلعم بعض بشارتیں پیش از وقوع بتلادیں یا بعض قضا وقدر کے نزول کی باتیں پیش از وقوع مطلع کردیں یا بعض دعاؤں کی قبولیت سے پیش از وقت اطلاع دے دیں یا قرآن کریم کی بعض آیات کے ایسے حقائق و معارف بتلادیں جو پہلے قلم بند اور شائع نہیں ہوچکے تو بلاشبہ ایسی خواب صحیح سمجھی جاوے گی۔ ورنہ اگر ایک شخص دعویٰ کرے جو رسول اللہ صلعم میری خواب میں آئے ہیں اور کہہ گئے ہیں کہ فلاں شخص بے شک کافر اور دجّال ہے اب اس بات کا کون فیصلہ کرے کہ یہ رسول اللہ صلعم کا قول ہے یا شیطان کا یا خود اس خواب بین نے چالاکی کی راہ سے یہ خواب اپنی طرف سے بنالی ہے سو اگر میر صاحب میں درحقیقت یہ قدرت حاصل ہے کہ رسول اللہ صلعم ان کی خواب میں آجاتے ہیں تو ہم میر صاحب کو یہ تکلیف دینا نہیں چاہتے کہ وہ ضرور ہمیں دکھادیں بلکہ وہ اگر اپنا ہی دیکھنا ثابت کردیں اور علامات اربعہ مذکورہ بالا کے ذریعہ سے اس بات کو بپایۂ ثبوت پہنچا دیں کہ درحقیقت انہوں نے آنحضرت صلعم کو دیکھا ہے تو ہم قبول کرلیں گے اور اگر انھیں مقابلہ کا ہی شوق ہے تو اس سیدھے طور سے مقابلہ کریں جس کا ہم نے اس اشتہار میں ذکر کیا ہے ہمیں بالفعل ان کی رسول بینی میں ہی کلام ہے چہ جائیکہ ان کی رسول نمائی کے دعویٰ کو قبول کیا جائے پہلا مرتبہ آزمائش کا تو یہی ہے کہ آیا میر صاحب رسول بینی کے دعویٰ میں صادق ہیں یا کاذب اگر صادق ہیں تو پھر اپنی کوئی خواب یا کشف شائع کریں جس میں یہ بیان