انسانی طاقت سے بالاتر ہو ۔*
اب ناظرین پر واضح ہو کہ پہلے ڈاکٹر صاحب موصوف نے اپنے ایک خط میں نشانوں کو تخصیص کے ساتھ طلب کیا تھا جیسے مردہ زندہ کرنا وغیرہ اس پر انکی خدمت میں خط لکھا گیا کہ تخصیص ناجائز ہے خدائے تعالیٰ اپنے ارادہ اور اپنے مصالح کے موافق نشان ظاہر کرتا ہے اور جب کہ نشان کہتے ہی اس کو ہیں جو انسانی طاقتوں سے بالاتر ہوتو پھر تخصیص کی کیا حاجت ہے۔ کسی نشان کے آزمانے کیلئے یہی طریق کافی ہے کہ انسانی طاقتیں اسکی نظیر پیدا نہ کرسکیں اس خط کا جواب ڈاکٹر صاحب نے کوئی نہیں دیا تھا اب پھر ڈاکٹر صاحب نے نشان دیکھنے کی خواہش ظاہر کی اور مہربانی فرماکر اپنی اس پہلی قید کو اٹھالیا ہے اور صرف نشان چاہتے ہیں کوئی نشان ہو مگر انسانی طاقتوں سے بالاتر ہو لہٰذا آج ہی کی تاریخ یعنی ۱۱؍ جنوری ۱۸۹۲ء کو بروز دوشنبہ ڈاکٹر صاحب کی خدمت میں مکرراً دعوت حق کے طور پر ایک خط رجسٹری شدہ بھیجا گیا ہے جس کا یہ مضمون ہے کہ اگر آپ بلاتخصیص کسی نشان دیکھنے پر سچے دل سے مسلمان ہونے کیلئے تیار ہیں تو اخبارات مندرجہ حاشیہ میں حلفاًیہ اقرار اپنی طرف سے شائع کردیں کہ میں جو فلاں ابن فلاں ساکن بلدہ فلاں ریاست جموں میں برعہدہ ڈاکٹری متعین ہوں اور اسوقت حلفاًاقرار صحیح سراسر نیک نیتی اور حق طلبی اور خلوص دل سے کرتا ہوں کہ اگر میں اسلام کی تائید میں کوئی نشان دیکھوں جسکی نظیر مشاہدہ کرانے سے میں عاجز آجاؤں اور انسانی طاقتوں میں اسکا کوئی نمونہ انہیں تمام لواز م کے ساتھ دکھلا نہ سکوں تو بلا توقف مسلمان ہوجاؤں گا اس اشاعت اور اس اقرار کی اسلئے ضرورت ہے کہ خدائے قیّوم وقدّوس بازی اور کھیل کی طرح کوئی نشان دکھلانا نہیں چاہتا جب تک کوئی انسان پوری انکسار اور ہدایت یابی کی غرض سے اسکی طرف رجوع نہ کرے
*پنجاب گزٹ سیالکوٹ اور رسالہ انجمن حمایت اسلام لاہور اور ناظم الہند لاہور اور اخبار عام لاہور اور نورافشاں لدھیانہ۔