یہ پیدا ہوا کہ خود میاں نذیر حسین اور ان کی جماعت کے لوگ بٹالوی وغیرہ تائید کے نشانوں میں مخذول و مہجور رہے اور تائید الٰہی میرے شامل حال ہوگئی تو اس صورت میں بھی لوگوں پر حق کھل جائے گا اور روز کے جھگڑوں کا خاتمہ ہوجائے گا۔ اب جاننا چاہئے کہ خدا ئے تعالیٰ نے قرآن کریم میں چار۴ عظیم الشان آسمانی تائیدوں کا کامل متقیوں اور کامل مومنوں کیلئے وعدہ دیا ہے اور وہی کامل مومن کی شناخت کے لئے کامل علامتیں ہیں اور وہ یہ ہیں اول یہ کہ مومن کامل کو خدائے تعالیٰ سے اکثر بشارتیں ملتی ہیں یعنی پیش از وقوع خوشخبریاں جو اس کی مرادات یا اس کے دوستوں کے مطلوبات ہیں اس کو بتلائی جاتی ہیں دوئم یہ کہ مومن کامل پر ایسے امور غیبیہ کھلتے ہیں جو نہ صرف اس کی ذات یا اس کے واسطے داروں سے متعلق ہوں بلکہ جو کچھ دنیا میں قضا و قدر نازل ہونے والی ہے یا بعض دنیا کے افراد مشہورہ پر کچھ تغیرّ ات آنے والے ہیں ان سے برگزیدہ مومن کو اکثر اوقات خبر دی جاتی ہے سیوم یہ کہ مومن کامل کی اکثر دعائیں قبول کی جاتی ہیں اور اکثر ان دعاؤں کی قبولیت کی پیش از وقت اطلاع بھی دی جاتی ہے۔ چہارم یہ کہ مومن کامل پر قرآن کریم کے دقائق و معارف جدیدہ و لطائف و خواص عجیبہ سب سے زیادہ کھولے جاتے ہیں۔ ان چاروں علامتوں میں مومن کامل نسبتی طور پر دوسروں پر غالب رہتا ہے۔ اور اگرچہ دائمی طور پر یہ قاعدہ کلیہ نہیں ہے کہ ہمیشہ مومن کامل کو منجانب اللہ بشارتیں ہی ملتی رہیں یا ہمیشہ بلاتخلّف ہر ایک دعا اس کی منظور ہی ہوجایا کرے اور نہ یہ کہ ہمیشہ ہر ایک حادثہ زمانہ سے اس کو اطلاع دی جائے اور نہ یہ کہ ہر وقت معارف قرآنی اس پر کھلتے رہیں لیکن غیر کے مقابلہ کے وقت ان چاروں علامتوں میں کثرت مومن ہی کی طرف رہتی ہے اگرچہ ممکن ہے کہ غیر کو بھی مثلاً جو مومن ناقص ہے شاذو نادر کے طور پر ان نعمتوں سے کچھ حصہ دیا جاوے مگر اصلی وارث ان نعمتوں کا مومن کامل ہی ہوتا ہے ہاں یہ سچ ہے کہ یہ مرتبہ کاملہ مومن کا بغیر مقابلہ کے ہر ایک بلید و غبی اور کوتاہ نظر پر کھل نہیں سکتا۔ لہٰذا نہایت صاف اور سہل طریق حقیقی اور کامل مومن کی شناخت کیلئے مقابلہ ہی ہے کیونکہ اگرچہ یہ تمام علامات بطور خود بھی مومن کامل سے صادر ہوتی رہتی ہیں لیکن یک طرفہ طور پر بعض دقتیں بھی ہیں مثلاً بسا اوقات مومن کامل کی خدمت میں دعا کرانے کیلئے ایسے لوگ بھی آجاتے ہیں جن کی تقدیر میں قطعاً کامیابی