جان نثاری کے ساتھ خادم دین اسلام ہے اور کس قدر رسول کریم صلی اللہ علیہ و سلم کی عظمتوں کے شائع کرنے میں فداشدہ ہے مگر پھر بھی میاں نذیر حسین صاحب اور ان کے شاگرد بٹالوی نے صبر نہ کیا جب تک کہ اس عاجز کو کافر قرار نہ دے دیا میاں نذیر حسین صاحب کی حالت نہایت ہی قابل افسوس ہے کہ اس پیرانہ سالی میں کہ گور میں پیر لٹکا رہے ہیں اپنی عاقبت کی کچھ پروانہ کی اور اس عاجز کو کافر ٹھہرانے کیلئے دیانت اور تقویٰ کو بالکل ہاتھ سے چھوڑ دیا اور موت کے کنارہ تک پہنچ کر اپنے اندرون کا نہایت ہی برا نمونہ دکھایا خدا ترس اور متدیّن اور پرہیز گار علماء کا یہ فرض ہونا چاہئے کہ جب تک ان کے ہاتھ میں کسی کے کافر ٹھہرانے کیلئے ایسی صحیحیہ یقینیہ قطعیہ وجوہ نہ ہوں کہ جن اقوال کی بناء پر اس پر کفر کا الزام لگایا جاتا ہے ان اقوال مستلزم کفر کا وہ اپنے ُ منہ سے صاف اقرار کرے انکار نہ کرے تب تک ایسے شخص کو کافر بنانے میں جلدی نہ کریں لیکن دیکھنا چاہئے کہ میاں نذیر حسین اسی تقویٰ کے طریق پر چلے ہیں یا اور طرف قدم مارا۔ سو واضح ہو کہ میاں نذیر حسین نے تقویٰ اور دیانت کے طریق کو بکلی چھوڑ دیا میں نے دہلی میں تین اشتہار جاری کئے اور اپنے اشتہارات میں بار بار ظاہر کیا کہ میں مسلمان ہوں اور عقیدۂ اسلام رکھتا ہوں بلکہ میں نے اللہ جلّ شانہٗ کی قسم کھا کر پیغام پہنچایا کہ میری کسی تحریر یا تقریر میں کوئی ایسا امر نہیں ہے جو نعوذ باللہ عقیدۂ اسلام کے مخالف ہو صرف معترضین کی اپنی ہی غلط فہمی ہے ورنہ میں تمام عقائد اسلام پر بدل و جان ایمان رکھتا ہوں اور مخالف عقیدۂاسلام سے بیزار ہوں لیکن حضرت میاں صاحب نے میری باتوں کی طرف کچھ بھی التفات نہ کی اور بغیر اس کے کہ کچھ تحقیق اور تفتیش کرتے مجھے کافر ٹھہرایا بلکہ میری طرف سے أَنَامُؤمن انا مؤمن کے صاف اقرارات بھی سن کر پھر بھی لَسْتَ مُؤْمِنًا کہہ دیا اور جا بجا اپنی تحریروں اور تقریروں اور اپنے شاگردوں کے اشتہارات میں اس عاجز کا نام کافر و بے دین اور دجال رکھا اور عام طور پر مشتہر کردیا کہ یہ شخص کافر اور بے ایمان اور خدا اور رسول ؐ سے روگردان ہے سو میاں صاحب کی اس پھونک سے عوام الناس میں ایک سخت آندھی پیدا ہوگئی اور ہندوستان اور پنجاب کے لوگ ایک سخت فتنہ میں پڑ گئے خاص کر دہلی والے تو میاں صاحب کی اس اخگر اندازی سے آگ ببولا بن گئے شاید دہلی میں