ہیںؔ اور تمام الفاظ وحی الٰہی سے ہیں تو اس قسم کے کھانے میں وہ جھوٹا ہوگا۔ اور خود حدیثوں کا تعارض جو ان میں واقع ہے صاف دلالت کررہا ہے کہ وہ مقامات تحریف سے خالی نہیں ہیں پھر کیونکر کوئی مومن یہ اعتقاد رکھ سکتا ہے کہ حدیثیں روایتی ثبوت کے رو سے قرآن کریم کے ثبوت سے برابر ہیں! کیا آپ یا کوئی اور مولوی صاحب ایسی رائے ظاہر کرسکتے ہیں کہ ثبوت کے رو سے جس مرتبہ پر قرآن کریم ہے اُسی قرینہ پر حدیثیں بھی ہیں؟ پھر جب کہ آپ خود مانتے ہیں کہ حدیثیں اپنے روایتی ثبوت کی رو سے اعلیٰ مرتبہ ثبوت سے گری ہوئی ہیں اور غایت کار مفید ظن ہیں تو آپ اس بات پر کیوں زور دیتے ہیں کہ اسی مرتبہ یقین پر انہیں مان لینا چاہئے جس مرتبہ پر قرآن کریم مانا جاتا ہے۔ پس صحیح اور سچا طریق تو یہی ہے کہ جیسے حدیثیں صرف ظن کے مرتبہ تک ہیں بجز چند حدیثوں کے۔ تو اسی طرح ہمیں ان کی نسبت ظن کی حد تک ہی ایمان رکھنا چاہئے اور ہر ایک مومن خود سمجھ سکتا ہے کہ حدیثوں کی تحقیقات روایت کے نقص سے خالی نہیں کیونکہ ان کے درمیانی راویوں کے چال چلن وغیرہ کی نسبت ایسی تحقیقات کامل نہیں ہوسکی اور نہ ممکن تھی کہ کسی طرح شک باقی نہ رہتا۔ آپ خود اپنے رسالہ اشاعۃ السنہ میں لکھ چکے ہیں کہ احادیث کی نسبت بعض اکابر کا یہ مذہب ہوا ہے۔ ’’کہ ایک ملہم شخص ایک صحیح حدیث کو بالہام الٰہی موضوع ٹھہرا سکتا ہے اور ایک موضوع حدیث کو بالہام الٰہی صحیح ٹھہرا سکتا ہے۔‘‘ اب میں آپ سے پوچھتا ہوں کہ جب کہ یہ حال ہے کہ کوئی حدیث بخاری یا مسلم کی بذریعہ کشف کے موضوع ٹھہر سکتی ہے تو پھر کیونکر ہم ایسی حدیثوں کو ہم پایہ قرآن کریم مان لیں گے ؟ ہاں یہ تو ہمارا ایمان ہے کہ ظنی طور پر بخاری اور مسلم کی حدیثیں بڑے اہتمام سے لکھی گئی ہیں اور غالباً اکثر ان میں صحیح ہوں گی۔ لیکن کیونکر ہم اس بات پر حلف اٹھا سکتے ہیں کہ بلاشبہ وہ ساری حدیثیں صحیح ہیں جب کہ وہ صرف ظنی طور پر صحیح ہیں نہ یقینی طور پر تو پھر یقینی طور پر ان کا صحیح ہونا کیونکر مان سکتے ہیں!
الغرض میرا مذہب یہی ہے کہ البتہ بخاری اور مسلم کی حدیثیں ظنی طور پر صحیح ہیں۔ مگر جو حدیث صریح طور پر ان میں سے مبائن و مخالف قرآن کریم کے واقع ہوگی وہ صحت سے باہر ہوجائے گی۔ آخر بخاری اور مسلم پر وحی تو نازل نہیں تھی۔ بلکہ جس طریق سے انہوں نے حدیثوں کو جمع کیا ہے اس طریق پر نظر ڈالنے سے ہی معلوم ہوتا ہے کہ بلاشبہ وہ طریق ظنی ہے اور ان کی نسبت یقین کا ادعا کرنا ادعائے باطل ہے۔ دنیا میں جو اس قدر مخالف فرقے اہل اسلام میں ہیں خاص کر مذاہب اربعہ ان چاروں