پایا۔ پس یہ نشان اس بات کا ہے کہ گو آپ کو دنیا کے تردّد کی وجہ سے ہزار ہا غم ہوں لیکن بہرحال آپ دین سے محبت رکھتے ہیں۔ یہی ایک ایسی چیز ہے جس سے آخر کار ہر ایک غم سے رہائی دی جاتی ہے۔ لیکن جہاں تک مجھ سے ممکن ہے آپ کے لئے دعا میںمشغول ہے۱؎۔ اور میرا ایمان ہے کہ یہ دعائیںخالی نہیں جائیں گی۔ آخر ایک معجزہ کے طور پر ظہور میں آئیں گی اور میں انشاء اللہ دعا کرنے میں سست نہیں ہونگا۔ جب تک اس قسم کا معجزہ نہ دیکھ لوں۔ پس آپ کو اپنے دل پر غم غالب نہیں کرنا چاہئے۔ ہونے ہوتا رہے۲؎ جیسا کہ سید عبدالقادر جیلانی رضی اللہ عنہ مصیبت اور ابتلا کو مخاطب کر کے فرماتے ہیں ہر حملہ کہ داری نکنی نامردی۔ میں یقین رکھتا ہوں کہ اگر آپ صبر کے ساتھ آخری دن کا انتظار کریں گے تو انجام کار میری دعاؤں کا نمایاں اثر ضرور دیکھ لیں گے۔ باقی سب خیریت ہے۔ میری طرف سے اور والدہ محمود کی طرف سے اپنے گھر میں السلام علیکم کہہ دیں اور بچوں کو پیار۔ راقم خاکسار مرزا غلام احمدعفی عنہ ۱؎ نقل مطابق اصل۔ مؤلف
۲؎ اصل مکتوب میں ’’ہوتار ہے‘‘ کے الفاظ ہیں۔ غالباً مراد ہوگی ’’ہونے والا ہوتا رہے‘‘ ہونے کے بعد ایک لفظ کٹا ہوا بھی ہے۔
مکرر یہ کہ اپیل خدا تعالیٰ کے فضل سے منظور ہو گیا ہے اور سات سَو روپیہ جیسا کہ دستور ہے انشاء اللہ واپس مل جائے گا اس لئمیں نے کہہ دیا ہے کہ جب وہ روپیہ ملے تو وہ آپ کی خدمت میں بھیج دیا جائے کیونکہ مشکلات کے وقت میں آپ کو ہر طرح دوپیہ کی ضرورت ہے۔
والسلام غلام احمد عفی عنہ
نوٹ از مؤلف: اپیل بمقدمہ کرم الدین کا فیصلہ ۷؍ جنوری ۱۹۰۵ء کو لکھا گیا تھا اس لئے اس کے بعد کا یہ مکتوب ہے۔
٭٭٭
بِسْمِ اللّٰہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْم نَحْمَدُٗہٗ وَنُصَلِّیْ عَلٰی رَسُولِہِ الْکَرِیْم
۲۳/۸۶ ۱۲؍جنوری ۱۹۰۵ء
محبی عزیزی اخویم نواب صاحب سلمہ اللہ تعالیٰ۔ السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ
آپ کا عنایت نامہ پہنچا۔ میں دعا میں مصروف ہوں خدا تعالیٰ جلد تر آپ کے لئے کوئی راہ کھولے دنیا کی مشکلات بھی خدا تعالیٰ کے امتحان ہوتے ہیں۔