٭٭٭
بِسْمِ اللّٰہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْم نَحْمَدُٗہٗ وَنُصَلِّیْ عَلٰی رَسُولِہِ الْکَرِیْم
۲۰/۸۳
محبی عزیزی اخویم نواب صاحب سلمہ اللہ تعالیٰ۔ السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ
عنایت نامہ پہنچا۔ میں برابر آپ کی ہر ایک کامیابی کیلئے نماز میں دعا کرتا ہوں اللہ تعالیٰ آپ (کو٭) مشکلات سے نجات بخشے۔ آمین۔ گھر میں میری طرف سے اور والدہ محمود احمد کی طرف سے السلام علیکم کہہ دیں۔ میں اُن کی شفا کے لئے بھی دعا کرتا رہتا ہوں۔ خدا تعالیٰ شفا بخشے۔ آمین
دوسرے ضروری امر یہ ہے کہ ایک شہادت واقعہ کے لئے آپ کو گورداسپور میں تکلیف دینے کیلئے ضرورت پڑی ہے باوجود یکہ مجھ کو علم ہے کہ آپ کا لاہور سے ایسے موقعہ پر نکلنا بہت مشکل ہے مگر تا ہم یہ ضرورت اشد ضرورت ہے۔ بجز اس شہادت کے معاملہ خطرناک ہے۔ شاید تار کے ذریعہ سے آپ کو خواجہ صاحب اطلاع دیں۔ باقی سب خیریت ہے۔ والسلام
خاکسار مرزا غلام احمد عفی عنہ ۹؍ ستمبر ۱۹۰۴ء (ب)
۱؎ نقل مطابق اصل۔ سات کے بعد صد کا لفظ چھوٹ گیا ہے جیسا کہ فارسی اعداد ظاہر کرتے ہیں۔
٭ خطوط واحدانی والا لفظ خاکسار مرتب کا ہے۔
بِسْمِ اللّٰہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْم نَحْمَدُٗہٗ وَنُصَلِّیْ عَلٰی رَسُولِہِ الْکَرِیْم
۲۱/۸۴
محبی عزیزی اخویم نواب صاحب سلمہ اللہ تعالیٰ۔ السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ
عنایت نامہ پہنچا۔ حال معلوم ہوا مجھ کو پہلے ان مجبوریوں کا مفصل حال معلوم نہ تھا اب معلوم ہوا اس لئے میں نے اپنے خیال کو ترک کر دیا ۔ خدا تعالیٰ جلد تر شفا بخشے آمین۔ میں نے ان دنوں میں آپ کے لئے بہت دعا کی ہے اور دعا کرنے کا ایسا موقعہ ملا کہ کم ایسا ملتا ہے۔ الحمدللہ۔ اسیدکہ جلد یا کسی دیر سے ان دعاؤں کا ضرور اثر ظاہر ہوجائے گا دوسرے آپ کو یہ تکلیف دیتا ہوں میں بروز پنجشنبہ ۲۷؍ اکتوبر ۱۹۰۴ء سیالکوٹ کی طرف مع اہل و عیال جاؤں گا اور شاید