بعد اسی جگہ الہام ہوا کہ نخبی ھما من الغم ہم ان دنوںکو غم سے نجات دیں گے۔ چونکہ یہ عاجز اسی دن صبح کے وقت نواب صاحب کی خدمت میںخط روانہ کر چکا تھا اوربذریعہ رؤیا صادقہ نواب صاحب کو بہت تسلی دی گئی تھی۔ اسی لئے اسی خط پر کفایت کی گئی اور منشی الٰہی بخش کو اس الہام سے اطلاع دی گئی اور بروقت صدور اس الہام کے چند نمازی موجود تھے اور اتفاقاً دو ہندو ملاوامل اور شرمپت نامی بھی اکثر آیا جایا کرتے تھے۔ عین اس وقت پر موجود تھے ان کوبھی اسی وقت اطلاع دی گئی اورکئی مہمان آئے ہوئے تھے ان کوبھی خبر دی گئی۔پھر چند روز کے بعد نواب صاحب کاخط آگیا کہ سرائے کاکام جاری ہوگیاہے سو چونکہ یہ دعا اسی کام کے لئے کی گئی تھی۔ پھر اطلاع دینا فضول سمجھا گیا۔ مگر خداوند کریم کابڑا شکر ہے کہ مجمع کثیر میںیہ الہام ہوا اور جیسا کہ میںنے بیان کیا ہے عین الہام کے صدور کے وقت دو ہندو موجود تھے ۔جن کو اسی وقت مفصل بتایاگیااوردوسرے نمازیوںکوبھی خبر کردی گئی اور منشی الٰہی بخش کو بھی لکھا گیا۔
نواب علی محمد خان صاحب کی ارادت اور محبت اور دلی توجہ اور اخلاص قابل تعریف ہے۔ خدا تعالیٰ نے ان کو ہر غم سے خلاصی بخشے اورحسن عاقبت عطافرمائے۔ آپ نواب صاحب کوبھی اطلاع دیں کہ مالیر کوٹلہ سے نواب ابراہیم علی خان صاحب والئے مالیر کوٹلہ کے ایک سررشتہ دار کاخط آیا کہ وہ پچاس روپے بطور امداد بھیجیں گے ابھی نہیں آئے۔