بند تھا تو کسی قدر رواں کیا جاتا اور اگر بہت آتا تھاتو کم کیا جاتا اور نربسی اورہینگ وغیرہ سے تشنج اور غشی سے بچایا جاتا۔ لیکن جب کہ خدا تعالیٰ کاحکم تھا تو ایسا ہونا ممکن نہ تھا۔ پہلی دو تاریں ایسے وقت میں پہنچیں کہ میرے گھر کے لوگ سخت بیمار تھے اور اب بھی بیمارہیں۔ تیسرا مہینہ ہے دست اور مروڑ ہیں۔ کمزور ہو گئے ہیں۔ بعض وقت ایسی حالت ہو جاتی ہے کہ ڈرتا ہوں کہ غشی پڑ گئی اورحاملہ کی غشی گویاموت ہے۔دعا کرتا ہوں مجھے افسوس ہے کہ آپ کے گھر کے لوگوں کے لئے مجھے دعا کا موقعہ بھی نہ ملا۔ تاریں بہت دیر سے پہنچیں۔ا ب میں یہ خط اس نیت سے لکھتا ہوں کہ آپ ہی بہت نحیف ہیں۔ میں ڈرتا ہوں کہ بہت غم سے آپ بیمار نہ ہو جائیں۔اب اس وقت آپ بہادر بنیں اور استقامت دکھلائیں۔ ہم سب لوگ ایک دن نوبت بہ نوبت قبر میں جانے والے ہیں۔ میں آپ کو نصیحت کرتا ہوں کہ غم کودل پر غالب ہونے نہ دیں۔ میں تعزیت کے لئے آپ کے پاس آتا۔ مگر میری بیوی کی ایسی حالت ہے کہ بعض وقت خطرناک حالت ہو جاتی ہے۔ مولوی صاحب کے گھر میں بھی حمل ہے۔ شاید چھٹا ساتواں مہینہ ہے۔ وہ بھی آئے دن بیمار رہتے ہیں۔ آج مرزا خدا بخش صاحب بھی لاہور سے قادیان آئے۔ شاید اس خط سے پہلے آپ کے پاس پہنچیں۔ والسلام خاکسار مرزا غلام احمد از قادیان ۸؍ نومبر ۱۸۹۸ء