بہت سے گھروں میں ماتم ہو جائیں گے۔ بہت سے گھر ویران ہو جائیںگے۔ مرزا خد ابخش صاحب پہنچ گئے۔ ان کے گھر بیماری ہے۔ تپ روز چڑھتا ہے اور جگر اور معدہ ضعیف معلوم ہوتا ہے۔ مولوی صاحب کی دوسری لڑکی انہی دنوں سے بیمار ہے۔ جب کہ آپ نے بلایا تھا۔ اب بظاہر ان کی زندگی کی چنداں امید نہیں۔ حواس میں بھی فرق آگیا ہے اورمولوی صاحب بھی ہفتہ میں ایک مرتبہ بیمار ہوجاتے ہیں۔ بعض دفعہ خطرناک بیماری ہوتی ہے میرے دل میں خیال ہے کہ اپنے اور اپنی جماعت کے لئے خاص طو ر پر ایک قبرستان بنایا جائے جس طرح مدینہ میں بنایا گیا تھا۔ بقول شیخ سعدی۔ کہ ہداں رابہ نیکاں بہ بخشد کریم یہ بھی ایک وسیلہ مغفرت ہوتا ہے۔ جس کو شریعت میں معتبر سمجھا گیاہے۔ اس قبرستان کی فکر میں ہوں کہ کہاں بنایا جائے امید کہ خداتعالیٰ کوئی جگہ میسر کر دے گا او راس کے اردگرد ایک دیوار چاہئے۔ والسلام خاکسار مرزا غلام احمد از قادیان ۶؍اگست ۱۸۹۸ء مکتوب نمبر(۱۸)ملفوف بسم اللّٰہ الرحمٰن الرحیم نحمدہ ونصلی علیٰ رسولہ الکریم محبی اخویم نواب صاحب سلمہ تعالیٰ، السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ عنایت نامہ معہ مبلغ دو سو روپیہ مجھ کو ملا۔ اللہ تعالیٰ آپ کو