کیا کچھ ان دو مہینوں میں آتا ہے۔ پس اگر اس قدر روپیہ آگیا جو لنگرخانہ کے تخمینی خرچ سے بچت نکل آئے تو وہ روپیہ مدرسہ کے لئے خرچ ہو گا۔ میرے نزدیک ان دو ماہ کے امتحان سے ہمیں تجربہ ہو جائے گا کہ جو کچھ انتظام کیا گیاہے۔ کس قدر اس سے کامیابی کی امید ہے۔ اگر مثلاً ہزار روپیہ ماہوار چندہ کا بندوبست ہو گیا تو آٹھ سو روپیہ لنگر خانہ کے لئے نکال کر دو سو روپیہ ماہوار مدرسہ کے لئے نکل آئے گا۔ یہ تجویز خوب معلوم ہوتی ہے کہ ہر ایک روپیہ جو ایک رجسٹر میں درج ہوتا رہے اور پھر دو ماہ بعد سب حقیقت معلوم ہوجائے۔ غلام احمد عفی عنہ مکتوب نمبر (۶۱) ملفوف بسم اللّٰہ الرحمٰن الرحیم نحمدہ ونصلی علیٰ رسولہ الکریم محبی عزیزی اخویم نواب صاحب سلمہ اللہ تعالیٰ۔ السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ میں اس جگہ آکر چند روز بیمار رہا۔ آج بھی بائیں آنکھ میں درد ہے۔ باہر نہیں جا سکتا۔ ارادہ تھا کہ اس شہر کے مختلف فرقوں کو سنانے کے لئے کچھ مضمون لکھوں۔ ڈرتا ہوں کہ آنکھ کا جوش زیادہ نہ ہو جائے خدا تعالیٰ فضل کرے۔ مرزا خد ابخش کی نسبت ایک ضروری امر بیان کرنا چاہتا ہوں۔ گو ہر شخص اپنی رائے کا تابع ہوتا ہے۔ مگر میں محض آپ کی ہمدردی کی وجہ سے لکھتا ہوں