مکان تو صرف اوپر تیار ہو سکتا ہے اور زنانہ مکان جو تمام گرایا گیا ہے۔ اگر نہایت ہی احتیاط اور کفایت سے اس کو بنایا جائے تو شاید ہے کہ آٹھ سو روپیہ تک بن سکے۔ کیو نکہ اس جگہ انیٹ اور دوہری قیمت خرچ ہوتی ہے اور مجھے یقین نہیں کہ چار سور وپیہ کی لکڑی آکر بھی کام ہوسکے۔ بہرحال یہ پہلی منزل اگر تیار ہو جائے تو بھی بیکار ہے۔ جب تک دوسری منزل اس پر نہ پڑے کیوں کہ مردانہ مکان اسی چھت پر پڑ گیا اور چونکہ ایک حصہ مکان گرنے سے گھر بے پردہ ہورہا ہے اور آج کل ہندو بھی قتل وغیرہ کے لئے بہت کچھ اشتہارات شائع کر رہے ہیں۔ اس لئے میں نے کنویں کے چندہ میں سے عمارت کو شروع کرا دیا ہے۔ تاجلد پردہ ہو جائے گا۔ا گر اس قدر پکا مکان بن جائے جو پہلے کچا تھا توشاید آیندہ کسی سال اگر خداتعالیٰ نے چاہا تو اوپر کا مردانہ حصہ بن سکے۔ افسوس کہ لکڑی چھت کی محض بیکار نکلی اور ایسی بوسیدہ کہ اب جلانے کے کام میں آتی ہے۔ لہذا قریباً چار سو روپیہ کی لکڑی چھت وغیرہ کے لئے درکار ہو گی۔ خدا تعالیٰ کے کام آہستگی سے ہوتے ہیں۔ اگر اس نے چاہا ہے تو کسی طرح سے انجام کر دے گا۔ یقین کہ مولوی صاحب کاعلیحدہ خط آپ کو پہنچے گا۔
والسلام
خاکسار
مرزا غلام احمد عفی عنہ
۶؍ اپریل ۱۸۹۶ء